تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 204

کوئی طریق نہیں؟ اگر کوئی علاج ہو تو بتایا جائے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ یہ ذلّت کا داغ ہم پر رہے۔وہ رئوساء جو حضرت عمرؓ کے پاس آئے تھے اُن میں سے کسی کا باپ حضرت عمرؓ کا دوست تھا۔کسی کے چچا سے اُن کے تعلقات تھے۔کوئی ان سے رشتہ داری کےتعلقات رکھتا تھا اور کسی سے اُنہیں ذاتی طور پر اُنس اور تعلق تھا۔حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ ان کا خاندانی لحاظ سے کس قدر شہرہ تھا۔کس قدر رُعب اور شوکت یہ لوگ رکھتے تھے اور کس طرح مسلمانوں کو تحقیر کی نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔جب انہی خا ندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے حضرت عمرؓ سے یہ کہا کہ ہمیں کوئی ایسا طریق بتایا جائے جس سے یہ ذلّت کا داغ ہم سے دُور ہو جائے تو حضرت عمرؓ کو اُن کی پرانی حشمت یاد آگئی اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور غلبۂ رقت کی وجہ سے وہ کوئی جواب نہ دے سکے صرف انہوں نے انگلی اٹھائی اور شام کی طرف اشارہ کر دیا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ ادھر اسلام کی فتح کے لئےایک جنگ ہو رہی ہے اگر تم اس ذلّت کے داغ کو دور کرنا چاہتے ہو تو جائو اس جنگ میں شامل ہو کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دو۔وہ اس جواب کو سمجھ گئے چنانچہ وہ وہاںسے اٹھے اوربغیر اس کے کہ اپنے گھروں کو واپس جاتے سب کے سب شام کی طرف چلے گئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ پھر اُن میں سے ایک شخص بھی زندہ واپس نہ آیا۔بلکہ سب کے سب اس جگہ شہید ہو گئے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى اس دن ہر انسان سوچے گا کہ وہ کیا کچھ کرتا رہا ہے صحابہؓ نے بھی جب ان ترقیات اور انعامات کو دیکھا ہو گا تو اُن کے دلوں میں بار بار یہ خیال آتا ہو گا کہ کاش ہم زیادہ قربانیاں کرتے۔کاش ہم زیادہ اپنے اخلاص کا ثبوت دیتے۔وہی قربانیاں جن کو وہ پہلے بڑا سمجھا کرتے تھے۔وہی چندے جن کو وہ پہلے غیر معمولی قرار دیا کرتے تھے۔انہی قربانیوں اور انہی چندوں کے متعلق اُن کو خیال آتا ہو گا کہ ہم نے تو کچھ بھی نہ کیا کاش ہم اس سے زیادہ قربانیاں کرتے اور زیادہ انعامات حاصل کرتے۔اسی طرح کفار کے دل میں حسرت پیدا ہوتی ہو گی کہ کاش ہم اسلام کی مخالفت نہ کرتے اور ان ترقیات میں ہم بھی حصہ دار بنتے پس يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى کا یہ مطلب ہے کہ اُس دن ہر انسان کہے گا کہ کاش میں نے جو فلاں کام کیا ہے میں نہ کرتا یا کاش میں نے جو کچھ کیا ہےاس سے بڑھ کر کام کرتا قیامت کی صورت میں اس سے مراد ہو گی کہ دنیا کے اعمال کو یاد کر کے انسان حسرت کرے گا کہ کاش میں ایسا نہ کرتا۔یا خوش ہو گا کہ میں نے بہت اچھا کیا۔