تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 14

نہیں ہوں گے کہ وہ آپس میں اختلاف رکھتے ہیں بلکہ جب ہم غلبہ ٔ اسلام کے معنے لیں گے تو اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ ان لوگوںکی حالتیں مختلف وقتوں میں مختلف ہوتی ہیں گویا اس صورت میں اختلاف یا تو عوام الناس اور اُن کے علماء میں سمجھا جائے گا اور یا پھر علماء کا آپس میں اختلاف اس سے مراد لیا جائے گا یعنی یا تو اس کا یہ مفہوم ہو گاکہ اس بارہ میں عوام الناس اور ان کے علماء اور لیڈروں میں اختلاف ہے عوام الناس یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان تباہ ہو جائیں گے مگر علماء اور لیڈر یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان تباہ نہیں ہو سکتے اور یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بارہ میں علماء کی حالتیں بدلتی رہتی ہیں ایک حالت پر وہ قائم نہیں رہتے۔کبھی وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان لوگوں کو مار لیں گے اور کبھی یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہم ان کو کہاںمار سکتے ہیں ہم خود ہی ان کے مقابلہ میں پِس جائیں گے جب وہ مسلمانوں کی اندرونی خوبیوں اور اُن کی اعلیٰ درجہ کی صفات پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ان مسلمانوں کے مقابلہ میں ہم مارے جائیں گے اور جب وہ اپنے جتھوں اور اپنی قوتوں پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو سمجھتے ہیں ہم مسلمانوں کو مار لیں گے۔هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ کی دوسری تشریح اسی طرح هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مومن اور کافر آپس میں اختلاف رکھتے ہیں اور مومنوں اور کافروں کا یہ اختلاف بھی تین چیزوں کے متعلق سمجھا جائے گا۔بعث بعد الموت کے متعلق غلبۂ قرآن کے متعلق اور غلبہ ٔ اسلام کے متعلق یعنی بعث بعد الموت کے متعلق مومن کچھ کہتے ہیں اورکافر کچھ کہتے ہیں۔اسی طرح قرآن کے متعلق مومن کچھ کہتے ہیں اور کافر کچھ کہتے ہیں اور غلبۂ اسلام کے متعلق بھی مومنوں کا کچھ قول ہے اور کافروں کا کچھ قول ہے۔كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَۙ۰۰۵ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ۰۰۶ (خوب یادر کھو کہ بات )یوں نہیں (جس طرح یہ کہتے ہیںبلکہ) یہ لوگ (قرآن کریم کی بتائی ہوئی حقیقت کو)عنقریب جان لیں گے۔پھر (ہم کہتے ہیں کہ بات) یوں نہیں (جس طرح یہ کہتے ہیں بلکہ)یہ لوگ (قرآن کریم کی بتائی ہوئی حقیقت کو)عنقریب جان لیں گے۔حل لغات۔کَلَّا کَلَّا حرف ہے جو بات غلط ہو اُس سے ہوشیار کرنے کے لئے تنبیہ کے طور پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔یعنی یوں بات نہیں جس طرح کہ لوگ سمجھتے ہیں۔علّا مہ ابو البقاء اپنی کتاب کلیات میں لکھتے ہیں