تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 172

لی۔بائیں طرف گیا تو بُری فال لی (اقرب) گویا زجر کے اور معنوں کے علاوہ ایک معنے روکنے اور منع کرنے کے بھی ہیں اور ایک معنے اونٹوں کو شور کے ساتھ ہنکا کر لے جانے کے ہیں۔پس زَجْرَۃٌ وَاحِدَۃٌ کے معنے ہوئے ایک دفعہ دھکیل کر لے جانا یا ہنکا کر لے جانا۔تفسیر۔اِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ میں جنگ بدر کا نقشہ فرماتا ہے فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ارے میاں ابھی تمہارے دل دھڑکنے لگ گئے۔یہ درحقیقت جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے اور فرماتا ہے کہ یہ جو ہم نے کہا تھا کہ یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ اُس کا تو ابھی ہم نے صرف پہلا نمونہ دکھایا ہے اور ابھی سے تم حواس باختہ ہو گئے اور تمہارے دل دھڑکنے لگ گئے حالانکہ ابھی تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ والی پیشگوئی پوری ہونی باقی ہے اور تمہیں ہم نے کئی دفعہ ان میدانوں میں ہنکا کر لے جانا ہے۔یہ ویسا ہی فقرہ ہے جیسے ایک شاعر نے کہا کہ ؎ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیو ہوتا ہے کیا فرماتا ہے فَاِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ یہ عذاب جس کا ہم نے ذکر کیا ہے عذابوں کے لمبے سلسلہ میں سے پہلا عذاب ہو گا اور اسی کے دیکھنے سے تمہارے حوصلے پست ہو جائیں گے حالانکہ ہم تمہیں اور تمہاری قوم کے سرداروں کو بار بار جمع کریں گے اور بار بار مسلمانوں کے مقابلہ میں تم شکست کھائو گے۔ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے بدر کی جنگ کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔بدر کی جنگ میں نہ مسلمان لڑنے کی نیت سے نکلے تھے اور نہ کفار لڑنے کی نیت سے نکلے تھے۔مسلمان مدینہ سے صرف اس لئے نکلے تھے کہ انہیں معلوم ہوا کہ شام سے کفار کا ایک قافلہ آرہا ہے اور چونکہ یہ ایک غیر معمولی قافلہ تھا جس میں قریش کے ہرمرد و عورت کا تجارتی حصہ تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق رئوساء قریش کی یہ نیت تھی کہ اس کا منافع مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے میں استعمال کیا جائے گا۔چنانچہ تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ یہی منافع جنگ اُحد کی تیاری میں صرف کیا گیا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد غزوۃ رسول اللہ احدا) پس علاوہ اس کے کہ وہ قوم کی قوم مسلمانوں سے برسرِ پیکار رہتی تھی اپنے روپیہ اور مال کے ذریعہ سے بھی مسلمانوں کے خلاف مختلف قسم کے منصوبے سوچتی رہتی تھی اور یہ مال انہیں زیادہ تر تجارت سے حاصل ہوتا تھا۔دوسرے مسلمانوں کو علم تھا کہ کفار مکہ بھی اسی قافلہ کی پیشوائی کو ایک لشکر لے کر نکلے ہیں پس مسلمان یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہم تم سے ڈرتے نہیں لیکن اُن کو قطعی طور پر یہ علم نہ تھا کہ کفار سے جنگ ضرور ہو جائے گی۔پس چونکہ اس روپیہ کا استعمال مسلمانوں کے خلاف ہونے والا تھا۔اور دوسرے کفار مکہ ایک لشکر