تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 171

قیامت وہ ہے جب مرنے کے بعد ہر انسان کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اُسے اپنے اعمال کا جواب دینا پڑے گا۔ہم نے ان دونوں قیامتوں کا انکار کیا اور کہا کہ ہم کسی بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔چنانچہ ہم نے اس کا مقابلہ کیااور اس کو مٹانے کیلئے اپنی تمام کوششیں صرف کر دیں مگر جب بھی ہم نے اُس کے مقابلہ میں سر اٹھایا ہم کچلے گئے اور ہمیں ذلّت کے ساتھ ناکام ہونا پڑا۔اس کے بعد ساری قوم نے مل کر محمدرسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کو گرانے اور آپ کو اپنے مقصد میں ناکام کرنے کی کو شش کی مگر پھر بھی ہم مارے گئے۔پس جب ہم تیاری کر کے مارے گئے تو جہاں ہم بے تیاری کے جائیں گے وہاں ہمارا کیا حال ہو گا۔اُس دن کے لئے توہم نے کوئی بھی تیاری نہیں کی۔پس اگر وہ بات بھی پوری ہوئی تو پھر تو ہمارا بُرا حال ہو گا کیونکہ اس کے لئے ہم نے کوئی تیاری نہیں کی۔اس دنیوی دن کے لئے تو تیاری کی تھی پھر بھی ذلیل ہو گئے وہ دن جس کے لئے تیاری نہیں کی اُس دن کیا حال ہو گا۔وہ ہمارا لوٹنا توبڑا نقصان دِہ ہو گا۔اس جگہ دوزخ کا ذکر یہ بتانے کے لئے کیا گیا ہے کہ یہاں قیامت اور غلبۂ رسول دونوں کا اکٹھا ذکر ہو رہا تھا۔اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ جب اِن میں سے ایک بات پوری ہو جائے گی تو کفار خود بخود اس سے یہ استدلال کرنا شروع کر دیں گے کہ جو دوسری بات کہی گئی تھی معلوم ہوتا ہے وہ بھی پوری ہو جائے گی اور اگر ایسا ہو گیا تو ہمیں بڑا نقصان ہو گا کیونکہ ہم نے تو اُس دن کے لئے تو کوئی تیاری نہیں کی۔اس کے بعد پھر اصل مضمون کی طرف رجوع کرتا ہے۔فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ۰۰۱۴ پس (حقیقت میں) یہ (جنگ کی تیاری) ایک (الٰہی) ڈانٹ (ڈپٹ کا نتیجہ) ہو گی۔حَلِّ لُغَات۔زَجْرَۃٌ زَجْرَۃٌ زَجَرَ سے ہے اور زَجَرَہٗ عَنْ کَذَا زَجْرًا کے معنے ہوتے ہیں مَنَعَہٗ وَنَھَاہٗ اس کو کسی چیز سے سختی سے روکا اور منع کیا وَیُقَالُ اَصْلُ الزَّجْرِ اَلطّرْدُ مَعَ الصَّوْتِ یعنی زجر کے اصل معنے آواز کے ساتھ دوڑانے کے ہیں چنانچہ کہتے ہیں زَجَرَالْبَعِیْرُ: صَاحَ بِہٖ لِیَسُوْقَہُ زور زور سے آوازیں دے کراونٹ کو ہانکا اور جب زَجَرَتِ النَّاقَۃُ بِمَا فِیْ بَطْنِھَا کہیں تو معنی ہوں گے رَمَتْ بِہٖ اونٹنی نے اپنا بچہ پھینک دیا اور زَجَرَ الطَّیْرَ کے معنے ہوتے ہیں تَفَائَ لَ بِہٖ فَتَطَیَّرَ فَنَھَرَہٗ یعنی طیر سے تفائول لیا اور پھر منحوس فال نکلنے پر پرندے کو اڑا دیا۔اسی طرح کہتے ہیں فُلَانٌ یَزْجُرُ الطَّیْرَ یعنی اُس نے پرندہ اڑاد یا۔دائیں طرف گیا تو نیک فال