تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 170
ثُمَّ عَادَ اِلَیْہِ (اقرب) جو شخص کوئی کام کرتا ہوا چھوڑ دے اور پھر اُسے کرنے لگ جائے اس کے متعلق کہتے ہیں کہ رَجَعَ عَلٰی حَافِرَتِہٖ۔تفسیر۔يَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ۠ فِي الْحَافِرَةِسے مراد یہ ہے کہ جب کفار ایک پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو اُن کے دل دھڑکیں گے اور وہ کہیں گے کیوں جی ایک بات تو پوری ہو گئی۔کیا دوبارہ زندہ ہونے والی بات بھی پوری ہو جائے گی یعنی خُود بخو اُن کے دل میں سوال اُٹھنا شروع ہو جائے گا یا وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ایک بات تو ہو گئی کیا اس سے ہم یہ نتیجہ نکال لیں کہ قیامت کا مسئلہ بھی سچ مچ صحیح ہے اور کیا اب اس طرح ہو کر رہے گا اگر ایسا ہوا تو ہمیں بڑا نقصان پہنچے گا۔ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ۰۰۱۲قَالُوْا تِلْكَ اِذًا کیا ( اس حالت میں بھی کہ) جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے (ایسا ہو گا)۔كَرَّةٌخَاسِرَةٌۘ۰۰۱۳ وہ کہتے ہیں (اگر ایسا ہوا) تب تو یہ بڑی گھاٹے والی واپسی ہو گی حل لغات۔نَخِرَۃٌ نَخِرَالْعَظْمُ کے معنے ہوتے ہیں بَلِیَ وَتَفَتَّتَ ہڈیاں گل سڑ گئیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں (اقرب) اَلْعِظَامُ النَّخِرَۃُ: اَلْبَالِیَۃُالْمُتَفَتِّتَۃُ بوسیدہ اور گلی سڑی ہڈیاں (اقرب) اَلْکَرَّۃُ کے معنے ہیں لوٹنا اور اَلْکَرَّۃُ اَلْخَاسِرَۃُ کے معنے ہیں نقصان دِہ لوٹنا۔تفسیر۔ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةً میں سوال انکاری نہیں بلکہ استعجاب کا سوال ہے یعنی کفّار تعجب سے کہتے ہیں کہ ایک بات تو مسلمانوں کی پوری ہو گئی۔دوسری بات جو مسلمان کہا کرتے تھے کہ جب ہڈیاں گل سڑ جائیں گی۔اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی تو پھر دوبارہ اُن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے زندہ کر دیا جائے گا۔پس جب ان کی ایک بات پوری ہوتی نظر آگئی ہے تو دوسری بات بھی پوری ہو سکتی ہے گویا وہ جو کہا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد انسان دوبارہ زندہ کیا جائے گا یہ بات تو ٹھیک ہوتی نظر آتی ہے۔قَالُوْا تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ کفار کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوگا تو یہ ہمارا لوٹنا بڑا نقصان دہ ہو گا اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی تھی کہ دو قیامتیں آنے والی ہیں۔ایک قیامت میرا غلبہ ہے اور ایک