تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 169

سے ظاہر ہے فرماتا ہے یَقُوْلُوْنَ ئَ اِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِیْ الْحَافِرَۃٍ اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر اہل قلوب مراد ہیں تو پھر ضمیر مؤنث کیوں ہے ؟اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ یہاں اہل قلوب مراد ہیں۔اس لئے قلوب کی طرف اضافت کے باعث ضمیر مؤنث آسکتی ہے جیسے تَسُرُّالنّٰظِرِیْنَ (البقرۃ :۷۰)میں ہے یہ عربی کا قاعدہ ہے کہ اگر کوئی لفظ مؤنث یا مذکر کی طرف مضاف ہو تو مضاف الیہ کی مطابقت میں اسے بھی مؤنث یا مذکر قرار دے دیتے ہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اَبْصَار۔بَصَرٌ کی جمع ہے اور بَصَرٌ کا لفظ حَاسَّۃُ الرُّوْیَۃ کے معنوں میںبھی استعمال ہوتا ہے اور اَلْعَیْن کے معنوں میں بھی استعمال ہو تا ہےاور اَلْعِلْمُ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے (اقرب) اور علم کی ضمیر قلوب کی طرف پھیری جا سکتی ہے یعنی ان کے قلوب میں عقل اور فہم کی جو حس ہے وہ منکسر ہو جائے گی اور انہیں معلوم ہو گا کہ ان کے دلوں جو علم کے دعوے تھے سب غلط تھے۔اور اگر اَبْصَار سے ظاہر ی آنکھیں مراد لیں تو جیسا کہ اوپر بتا یا گیا ہے آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ اس دن کچھ دل دھڑک رہے ہوں گے اور اُن اہل قلوب کی آنکھیں ذلّت اور ندامت سے جھکی ہوئی ہوں گی۔وہ شرمندہ ہوں گے کہ محمدصلے اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا تھا وہ پورا ہوگیا۔اس مشاہدہ اور معائنہ کے بعد اُن کی آنکھیں شرمندگی اور ذلّت اور انکسار سے جھک جائیں گی۔یعنی یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا والا نظارہ دیکھ کر کسی کے سامنے آنکھ نہ اٹھا سکیں گے اور دل میں قیامت کے انکار کے متعلق بھی شبہ پیدا ہو جائے گا کہ جس طرح یہ بات پوری ہوئی کیا وہ بھی تو پوری نہ ہو جائے گی۔دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ اُس دن کچھ دل دھڑک رہے ہوں گے۔اُن کی بصیرتیں اور علوم سب باطل ہو جائیں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اُن کے علم وفہم کے دعوے سب غلط تھے۔يَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ۠ فِي الْحَافِرَةِؕ۰۰۱۱ (اور) وہ کہیں گے کیاہمیں اپنے رستے پر اُلٹے پائوں لوٹایا جائے گا۔حَلّ لُغَات۔اَلْحَافِرَۃُ الحَافِرَۃُ مؤنث ہے اَلْحَافِرُ کی اور اس کے معنے ہیں اَلْخَلْقَۃُ الْاُوْلٰی۔پہلی پیدائش۔کہتے ہیں رَجَعَ عَلٰی حَافِرَتِہٖ وَفِیْ حَافِرَتِہٖ اَیْ فِیْ طَرِیْقِہِ الَّتِیْ جَائَ فِیْھَا یعنی رَجَعَ عَلٰی حَافِرَتِہٖ کہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وُہ اُسی طرف چلا گیا جس طرف سے آیا تھا۔نیز کہتے ہیں فُلَانٌ رَجَعَ فِیْ حَافِرَتِہٖ: شَاخَ وَھَرِمَ یعنی وہ بڈھا ہوگیا۔وَرَجَعَ عَلٰی حَافِرَتِہٖ یُقَالُ اَیْضًا لِمَنْ کَانَ فِیْ اَمْرٍ فَخَرَجَ مِنْہُ