تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 168

اونٹ کے متعلق یہ لفظ استعما ل ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں عَدَاوَسَارَالْعَنَقَ۔وہ تیز دوڑا ور عنق (تیز چال) چال چلا (اقرب)پس قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌ کے معنے ہوں گے اس دن کچھ دل ایسے ہوں گے جو دھڑک رہے ہوں گے۔تفسیر۔غلبہ اسلام کے ظہور سے قیامت کےبرپا ہونے کے متعلق کفار کے دلوں میں خیالات جیسا کہ سورۂ نبأ کی تفسیر میں بیان کیا جاچکا ہے اللہ تعالیٰ ایک ہی وقت میں قرآن اور اسلام کے غلبہ اور قیامت کا ذکر کرتا ہے اور اسلام کے غلبہ کو قیامت کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ جو خدا اتنا عظیم الشان تغیّرپیدا کر سکتا ہے تمہیں یقین رکھنا چاہیے کہ وہ مرنے کے بعد بھی زندگی بخش سکتا ہے۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ جب یہ حالات رُونما ہوں گے بڑے بڑے صنادید مارے جائیں گے اور مسلمان کفار کو مغلوب کر لیں گے تو اُن کے دلوں میںیہ شبہ پیدا ہو نا شروع ہو جائے گاکہ کہیں سچ مچ قیامت بھی تو نہیں آنےوالی۔جب ایک بات پوری ہونی شروع ہو گئی ہے تو دوسری بات جس کا اسی کےساتھ تعلق تھا وہ بھی پوری ہو سکتی ہے۔پس اُس دن کفار گھبرا جائیں گے اور آثار شکست ظاہر ہو جائیں گے یہاں تک کے کفار کے دل میں اپنے عقیدۂ قیامت کے انکار کے متعلق بھی شبہات پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے اور وہ کہیں گے ارے کہیںقیامت بھی تو نہیں آنیوالی جس کا مسلمانوںکی طرف سے ذکر کیا جا رہا تھا۔اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ۰۰۱۰ اور ان کی نظریں خوف سے جھکی ہوئی ہوں گی۔حَلّ لُغَات۔اَلْخَاشِعَۃُ الْخَاشِعَۃَ خَشَعَ سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور خَشَعَ بِبَصَرِہِکے معنے ہوتے ہیں غَضَّہَ آنکھ کو نیچا کیا۔وَغَضَّ بَصَرُہٗ: اِنْکَسَرَ اس کی آنکھ انکسار سے جھک گئی۔وَفِیْ النَّھَایَۃِ اَلْخُشُوْعُ فِیْ الصَّوْتِ وَالْبَصَرِ کَالْخُضُوْعِ فِیْ الْبَدَنِ۔نھایۃ کے مصنف لکھتے ہیں کہ جس طرح بدن کی عاجزی اور انکساری کے اظہار کے لئے خضوعؔکا لفظ استعمال کرتے ہیں اسی طرح آنکھ اور آواز سے عجز کے اظہار کو خشوع کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌمیں ھا کی ضمیر کا مرجع اَبْصَارُھَا کی ضمیر قلوب کی طرف جاتی ہے اور اَبْصَار کے معنے آنکھوں کے ہوتے ہیں۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ دلوں کی تو آنکھیں نہیں ہوتیں پھر اَبْصَارُھَا کیوں کہا گیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اَبْصَارُھَا میں ھَاء سے مراد اہل قلوب ہیں جیسا کہ یَقُوْلُوْنَ