تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 167

یَرْدَفُ) رَدَفًا کے معنے ہیں تَبِعَہٗ اس کے پیچھے پیچھے آیا(اقرب) پس رَادِفَۃٌ کے معنے ہوئے پیچھے آنےوالی۔تفسیر۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کے اندر بظاہرلڑائی کا بڑا جوش نظر آتا ہے اور وہ کہتا ہے میں یوں کردوں گا وُوں کردوں گا۔مگر اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اگر اسے ایک تھپڑ بھی لگ جائے تو اس کا سارا جوش وخروش جاتا رہتا ہے اور وہ خاموش ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔اسی طرح بعض لوگ اپنے آپ کو بڑا بہادر سمجھتے ہیں مگر وقت آنے پر اُن کی حقیقت کُھل جاتی ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کی بہادری کے دعوے سب غلط تھے۔میں نے کئی دفعہ اس شخص کی مثال سنائی ہے جو ایک گودنے والے کے پاس گیا اور اُسے کہنے لگا کہ میرے بازو پر شیر کی تصویر گود دو۔اُسے بھی یہ وہم تھا کہ میں بہت بہادر ہوں۔جب جراح نے سُوئی چبھوئی تو جھٹ چونک کر کہنے لگا کیا بنانے لگے ہو؟ وہ کہنے لگا کہ شیر کا کان۔کہنے لگا اگر شیر کا کان نہ ہوتو آیا شیر رہتا ہے یا نہیں رہتا؟ اس نے کہا کیوں نہیں رہتا۔وہ کہنے لگا تو پھر کان چھوڑ دو اور کوئی اور حصہ بنائو۔پھر اُس نے سوئی ماری تو اُس نے دوبارہ شور مچا دیا اور کہنے لگا اب کیا کرنے لگے ہو؟ وہ کہنے لگا کہ شیر کا دوسرا کان بنانے لگا ہوں۔اُس نے کہا اگر یہ کان نہ ہو تو پھر یہ شیر رہتا ہے یا نہیں رہتا؟ وہ کہنے لگا رہتا کیوں نہیں۔کہنے لگا اچھا تو پھر اس کوبھی چھوڑو اور آگے چلو۔اسی طرح وہ ہر دفعہ یہی کہتا چلا گیا۔آخر گودنے والے نے سوئی رکھ دی اور کہنے لگا اب تو کچھ بھی نہیں بن سکتا۔تو بعض فطرتیں ایسی ہوتی ہیں کہ بہادری کا دعویٰ تو بہت کرتی ہیں مگر وقت پر بزدل ثابت ہوتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ یہ نہیں ہو گا کہ مسلمان پھر اپنے ہاتھ سے تلوار چھوڑ دیں بلکہ ایک دفعہ تلوار اٹھے گی تو پھر پے در پے جنگیں ہوتی ہی چلی جائیں گی۔یہ نہیں ہو گا کہ مسلمان ڈر جائیں یا ایک حملہ کے بعد دوسرا حملہ نہ کریں بلکہ متواتر اور مسلسل جنگیں ہوں گی اور وہ اُس وقت تک تلوار ہاتھ سے نہ رکھیں گے جب تک فتح نہ پائیں۔قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ۰۰۹ اس دن کچھ ( لوگوں کے)دل دھڑک رہے ہوں۔حَلّ لُغَات۔وَاجِفَۃٌ وَجَفَ سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے۔وَجَفَ (یَجِفُ) وَجْفًا وَوَجِیْفًاوَ وَجُوْفًا کے معنے ہوتے ہیں اِضْطَرَبَ وہ کانپنے لگا اور جب قلب کے لئے یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے خفقان کے ہوتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں وَجَفَ الْقَلْبُ وَجِیْفًا اَیْ خَفَقَ یعنی دل دھڑکنے لگا۔اور جب گھوڑے یا