تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 13

ہے ورنہ سب جانتے ہیں کہ وہ اکیلے ہوتے ہیں نہ اُن کے پاس جتھہ ہوتا ہے نہ اُن کے پاس طاقت ہوتی ہے نہ اُن کے پاس مال ہوتا ہے نہ اُن کے پاس ظاہر ی شان وشوکت کا کوئی اور سامان ہوتا ہے۔وہ اکیلے اُٹھتے اور بے سروسامانی کی حالت میں دنیا کے مقابلے میں کھڑے ہو تے ہیں مگر پھر ساری دنیا اُن کی مخالفت کرنے لگ جاتی ہے اور وہ پورا زور اس بات پر صرف کر دیتی ہے کہ اُن کو کچل دے اُن کے نام کو مٹا دے اور ان کو اپنے مشن میں کامیاب نہ ہونے دے کیونکہ ان کے دلوں میں یہ خیال موجود ہوتا ہے کہ یہ شخص گو اکیلا ہے مگر اس میں ایسی ترقی کی قابلیت پائی جاتی ہے اور ایسی رُوح اس کے اندر نظر آتی ہے جو ایک دن ہم کو کھا جائے گی اور ہمیں اس کے مقابلہ میں پسپا کر دے گی۔ہمارے اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد بھی کئی لوگوں نے دعوے کئے مگر لوگ اُن کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کرتے جس پر وہ چڑتے ہیں کہ ہماری مخالفت کیوں نہیں کی جاتی۔بلکہ بعض اُن میں سے ہمیںگالیاں دیتے ہیں کہ ہم اُن کی باتوںکا جواب کیوں نہیں دیتے۔مگر باوجود اس کے کہ اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اُن کی مخالفت کریں۔اُن کی باتوں کی طرف توجہ کریں پھر بھی کوئی شخص اُن کی طرف توجہ نہیں کرتا۔اسی لئے کہ اُن میں وہ کوئی ایسی چیز نہیں دیکھتے جس سے اُن کے دلوں میں ڈر محسوس ہواوروہ یہ خیال کرنے لگ جائیں کہ یہ ایک دن ہم پر غالب آجائیں گے۔لوگ اُن کی باتوں کو سنتے ہیں تو ہنس کر گذر جاتے ہیں کوئی مخالفت نہیں کرتے یا معتدبہ مخالفت نہیں کرتے۔اتفاقیہ طور پر اُن کے متعلق منہ سے کچھ نکل جائے تو اور بات ہے ورنہ یُوں سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ آپ ہی تباہ ہو جائیں گے ہمیں ان کی مخالفت کرنے کی ضرورت نہیں۔توالَّذِيْ هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ میں غلبہ اسلام کے معنوں کی طرف بھی اشارہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کفّار میںسے جو سمجھدار لوگ ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ چیز ایک دن غالب آنےوالی ہے۔عوام الناس بے شک اپنے علماء کی باتیں سُن کر کہتے ہیں کہ یہ لوگ ہمارے مقابلہ میں فنا ہو جائیں گے مگر اُن کے علماء جانتے ہیں کہ آخر اسلام ہی جیتے گا اور وُہی ا س میدان میں شکست کھائیں گے بلکہ اُنہیں اپنی شکست کے ابھی سے آثار نظرآنے شروع ہو گئے ہیں۔گویا پہلے دن سے ہی اسلام کی برتری اور اُس کے غلبہ کا اقرار ان لوگوں کو تھااور وہ سمجھتے تھے کہ اس مذہب کے مقابلہ میں ہم ٹھہر نہیں سکیں گے۔اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں جماعت احمدیہ کی برتری کا احساس لوگوں کے قلوب میں موجود ہے اور وہ ڈرتے ہیں کہ اگر جماعت احمدیہ اسی طرح بڑھتی چلی گئی تو معلوم نہیں کہ کیا ہو جائے گا۔اس لئے وہ مخالفت میں اپنا پورا زور صرف کر دیتے ہیں اور اس شدید مخالفت کی وجہ سے کسی کسی وقت یہ بھی سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ لوگ تباہ ہو جائیں گے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ اتنی مخالفتوں کے بعد بھلا یہ کہاں پنپ سکیں گے۔پس هُمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ کے اس صورت میں یہ معنے