تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 158
اُن میں یہ شوق پیدا ہو جائے گا کہ ہم اس میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔گویا وہ صر ف یہ نہیں دیکھیں گے کہ وہ اچھی طرح اور نشاطِ خاطر سے کام کر رہے ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی بھی کوشش کریں گے اور قوتِ مسابقت کو حرکت میں لائیں گے۔سخاوت ہر ایک کو آسان معلوم ہو گی مگر اس کے بعد وہ یہ کوشش کریں گے کہ ہم دوسروں سے زیادہ سخاوت کریں۔عفّت ہر ایک کو آسان معلوم ہو گی مگر اس کے بعد ہر شخص کے اندر یہ جو ش پیدا ہو گا کہ میں دوسروں سے زیادہ عفیف بنوں۔خوش خلقی ہر ایک کو آسان معلوم ہو گی مگر اس کے بعد ہر شخص کے اندر یہ جذبہ موجزن ہو گا کہ میںدوسروں سے زیادہ خوش خلق بنوں۔رحم کرنا ہر ایک کو آسان معلوم ہو گا مگر اس کے بعد ہر شخص کے دل میں یہ جوش پیدا ہو گا کہ میں دوسروں سے زیادہ رحم کا نمونہ دکھائوں۔گویا نیکیوں کے میدان میں اُن کا مقابلہ شروع ہو جائے گا اور ہر شخص کوشش کرے گا کہ میں دوسروں سے بڑھ جائوں۔جب وہ اس مقام پر پہنچیں گے تو فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا یہ زائد بات بھی اُن میں پیدا ہو جائے گی کہ اُن میں سے ہر شخص اپنے آپ کو قوم کا ذمہ وار سمجھے گا۔یہ نہیں دیکھے گا کہ یہ کام فلاں کا ہے اور یہ کام فلاں کا۔بلکہ ہر شخص سمجھے گا کہ میں ہی ساری جماعت کا ذمہ وار ہوں۔ہندوستان میں بئے کی مثال مشہور ہے جو ایک چھوٹا سا جانور ہوتا ہے بعض یہی بات پِدّے کے متعلق کہتے ہیں کہ رات کو وہ اُلٹا سوتا ہے ایک دفعہ اس سے کسی نے پوچھا کہ تُو الٹا کیوں سوتا ہے تواُس نے جواب دیا کہ رات کو ساری دنیا سو رہی ہوتی ہے اگر آسمان گر پڑے تو اُسے کون سنبھالے گا میں اس لئے اُلٹا سوتا ہوں کہ اگر آسمان گرا تو دنیا کو بچا لوں گا۔یہ بظاہر ایک مضحکہ خیز مثال ہے لیکن انسانوں کے متعلق واقعہ یہی ہے کہ جو شخص کمال نیکی کو پہنچ جاتا ہے وہ ساری دنیا کی ذمہ واری اپنے اوپر لے لیتا ہے وہ یہ نہیں کہتا کہ اس کی ذمہ واری فلاں پر ہے اور اس کی ذمہ واری فلاں پر۔بلکہ وہ اپنے آپ کو ہی واحد ذمہ وار سمجھتا ہے جب یہ خوبی کسی قوم کے افراد میں پیدا ہو جائے تو وہ قوم کبھی تبا ہ نہیں ہو سکتی۔ایک سو جائے گا تو دوسرا اُس کو جگانے کے لئے موجود رہے گا۔آخر تمام لوگ ایک وقت میں توسو نہیں سکتے لازمًا کچھ حصہ سوئے گا اور کچھ حصہ بیدار رہے گا اور جب کچھ حصہ بیدار رہے گا تو اس کے یہ معنے ہیں کہ قوم کو بچانے والے افراد موجود رہیں گے اور وہ تباہی سے اُسے محفوظ رکھیں گے۔غرض جس قوم میں بھی یہ نیکیاں پیدا ہو جائیں اس قوم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا وہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور ساری دنیا پر غالب آجاتی ہے۔سورۃ نازعات کی پہلی آیات کے چوتھے معنی ان آیات کے ایک چوتھے معنے بھی ہو سکتے ہیں اور وہ یہ کہ نَزَعَ کے معنے مشابہ ہو جانے کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ نَزَعَ الْوَلَدُ اَبَاہُ اَوْ اِلٰی اُمِّہٖ کے معنے ہوتے ہیں اَشْبَہَ وہ اپنی ماں یا اپنے باپ کے مشابہ ہو گیا۔اس لحاظ سے وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا کے یہ معنے ہوں گے کہ مسلمان محمدرسول اللہ