تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 157
بھی وہ قومی خدمت کرتےچلے جاتے ہیں اور اس سے رکتے نہیں ہیں۔وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا یہ لازمی بات ہے کہ جو شخص محنت سے کام لیتا ہے وہ آخر فن کا ماہر ہو جاتا ہے اور جب کوئی شخص فن کا ماہر ہو جائے تو اس کے لئے کام میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔وہی کام جو ایک پیشہ ور لوہار کرتا ہے اگر ہمیں اس کی جگہ کرنا پڑے تو ہم بڑی محنت سے آہستہ آہستہ اس کام کو کر سکیں گے اور پھر بھی وہ کام خراب ہو جائے گا۔مجھے یاد ہے بچپن میں ایک دفعہ بڑھئی ہمارے گھر میں کام کر رہے تھے مجھے ان کا کام بڑا پسند آیا اور میں نے سمجھا کہ یہ معمولی بات ہے اس کام کو تو میں بھی کر لوں گا۔میری عُمر اس وقت نو دس سال کی تھی جب وہ کھانا کھانے چلے گئے تو میں نے تیشہ اٹھایا اور ایک لکڑی کو چھیلنے کے لئے اُس پر مارا مگر وہ بجائے لکڑی پر پڑنے کےسیدھا میرے ہاتھ کے انگوٹھے پر لگا جس سے گہرا زخم ہو گیا اور اس کا نشان آج تک موجود ہے دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ بڑھئی جو کچھ کر رہا ہے معمولی بات ہے اور اس طرح میں بھی کر سکتا ہوں مگر جب کام کا وقت آتا ہے تب معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام کتنا مشکل ہے۔مگر بڑھیوں کو اس کام کے کرتے وقت کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ایک لمبے عرصہ کی مشق کی وجہ سے وہ اس کام میں تیراکوں کی طرح ہو جاتے ہیں یہی خوبی اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کی اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ اب توانہیں نیکیوں کے حصول میں بڑی محنت اور مشقت سے کام لینا پڑتا ہے لیکن ایک زمانہ آئے گا جب یہ ان کاموں میں تیراکوں کی طرح ہو جائیں گے اور ایک طبعی رغبت اور نشاط ان میں پیدا ہو جائے گا اور ایک دن یہ روحانی سمندر کے تیراک ہو جائیں گے جس طرح ایک ماہر تیراک دُور دُور تک تیرتا چلا جاتا ہے اور اُسے کوئی مشکل محسوس نہیں ہوتی اسی طرح وہ نیکیوں پر ایسا غلبہ حاصل کر لیں گے کہ ایک طبعی رغبت اور نشاط ان میں پیدا ہو جائے گا اور نیکیوں کے بجا لانے میں انہیں سرور محسوس ہو گا۔لوگوں کو جھوٹ سے بچنے کیلئے بڑی بڑی کوششیں کرنی پڑتی ہیں مگر اُن کے لئے جھوٹ چھوڑ دینا کوئی بڑی بات نہیں۔لوگوں کو صداقت پر قائم رہنا بڑا مشکل ہوتا ہے مگر اُن کے لئے صداقت سے کام لینا ایسا ہی ہے جیسے صداقت کی طرف ایک طبعی میلان اُن کے اندر پایا جاتا ہے۔یہی حال دوسری نیکیوں کا ہے کہ اُن کے کرتے وقت انہیں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے نیکیوں سے ان کی فطرت کو طبعی مناسبت پیدا ہو چکی ہے اور اب وہ کسی اور طرف جا ہی نہیں سکتے۔گویا ہر نیکی انہیں یوں معلوم ہوتی ہے جیسے ماں کا دودھ ہے جس طرح بچہ اُس دودھ کو آسانی سے پی لیتا ہے اور اُسے کوئی بوجھ محسوس نہیں ہوتا اسی طرح کسی نیک بات پر بھی عمل کرنا اُن کے لئے بوجھ نہیں رہے گا۔بلکہ وہ دلی شوق اور نشاطِ خاطر سے اس میں حصہ لیں گے۔فَالسّٰبِقٰتِ سَبْقًا جب اُن میں نشاط پیدا ہو جائے گاتو اس کے بعد نیکی کی طرف ان کا ایک اور قدم اٹھے گا اور