تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 139

کہ کفار کے دل جو بظاہر اسلام سے عناد رکھتے ہیں لیکن بباطن اسلام کی خوبیوں کے قائل ہیں ان کو اکھیڑنے کے لئے فرشتوں کے متعدد گروہ کام کریں گے چنانچہ واقعہ یہی ہے کہ اُن میں سے کوئی شخص کسی وجہ سے مخفی طور پر کفر سے بیزار تھا اور کوئی کسی وجہ سے۔کوئی ان کی وحشت کی وجہ سے بیزار تھا اور کوئی بد انتظامی کی وجہ سے۔کوئی ظلم کی وجہ سے بیزار تھا اور کوئی شریعت نہ ہونے کی وجہ سے۔اور اس طرح گو کچھ لوگ کفر کے باغ کے درخت تھے مگر اُن کی جڑیں اس زمین میں کھوکھلی ہو چکی تھیں اور اب اُن کی کفر کی سرزمین سے مناسبت نہیں رہی تھی جب محمد صلے اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی تو ہر خُلق پر مقرر فرشتے نے اپنے اپنے دائرہ کے باغ کو چُنا اور اُن کے نیک جذبات کو ابھارنا شروع کیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کامل تعلیم لائے تھے اُس میں شرک نہ تھا۔توحید تھی۔جہالت نہ تھی۔علم تھا۔ظلم نہ تھا۔انصاف تھا۔وحشت نہ تھی۔رأفت تھی۔مادر پدر آزادی نہ تھی۔ایک باقاعدہ اور مفید قانون تھا۔بدانتظامی نہ تھی۔انتظام تھا۔غرض ہر قسم کی ضرورت جو انسانی فطرت کو پیش آسکتی تھی اس کا سامان آپ کی تعلیم میں موجود تھااور ہر غلطی جو کفر میں موجود تھی اس کی اصلاح کا سامان بھی موجود تھا۔پس ہر فرشتہ جو کسی خلق پر مقرر تھا اُس نے ہر دل میں جو اس کے مطابق حال تھا اپنے دائرہ کے مطابق نیک جذبات کو اُبھار کر اس نیکی کو نمایاں کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے کفر کا وُہ نقص اُسے بہت ہی بھیانک نظر آنے لگا۔مثلاً ایک شخص اگر شرک کو ناپسند کرتا تھا تو محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے بعد توحید کے قیام کے لئے جو فرشتے مقرر تھے انہوں نے اِن تھوڑی نفرت رکھنے والے لوگوں کے دلوںمیں مزید نفرت پیدا کرنی شروع کر دی اور شرک کی خرابی اُن پر اور زیادہ واضح کر دی۔دوسری طرف انہوں نے اپنے اپنے دائرہ کی نیک تعلیم جو اسلام میں تھی اسے ان لوگوں کے قریب الفہم بنایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے باغ سے اور زیادہ دل برداشتہ ہو گئے اور جس زمین میں وہ ٹکے ہوئے تھے اُس سے اور بھی نفرت کرنے لگے۔انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ یہ زمین ہمارے مناسب حال نہیں اور باغ محمدیؐ میں جانے کے بے انتہاء شائق ہو گئے۔جب یہ حالت پیدا ہوگئی۔پہلا قدم فرشتوں نے اٹھا لیا اور لوگوں کے دلوں میں کفر سے نفرت پیدا کردی اور جو شخص جس نیکی کی طرف مائل تھا اُسے اُس نیکی کی طرف انہوں نے اور زیادہ مائل کر لیا اور اس طرح اسلام کی محبت اُن کے دلوں میں پیدا کر دی۔تو اس کے بعد ہر گروہ کے فرشتوں نے دوسرا کام شروع کیا جس کا وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا میں ذکر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا قسم ہے اُن طوائفِ ملائکہ کی جو گرہیں باندھتے ہیںیعنی وہ وہاں سے اُن ارواح کو کاٹ کر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دامن سے باندھنا شروع کر دیں گے۔پہلے اُن فرشتوں