تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 138

ملائکہ کا کام محدود ہوتا ہے اور پھر دائرہ عمل بھی محدود ہوتا ہے ایک کام جو ایک گروہ کے سپرد ہوتا اُسے ایک گروہ کرتا ہے نہ کہ کوئی ایک فرشتہ اور جب یہ حالت ہے تو ماننا پڑے گا کہ ہر گروہ کا کوئی مرکز بھی ہے اور اُس مرکز کے ساتھ اس کے افراد کے تعلقات ہیں اور وہاں وہ اپنے افسر کو رپورٹ دیتے ہیں بے شک انسانوں کی طرح نہیں بلکہ اسی طرح پر جو ملائکہ کے شایان شان اور مناسب حال ہے۔(ملائکہ کے انتظام اور کام کے متعلق تفصیل کے لئے دیکھئے توضیح مرام طبع پنجم صفحہ ۱۵ تا آخر) النّٰزِعٰتِ غَرْقًاکا صحیح حل اس تمہید کے بعد مَیں پہلے نَازِعَات کو لیتا ہوں اور اس کی تشریح کرتے ہوئے فرشتوں والے معنوں کو مقدم کر لیتا ہوں کیونکہ اس پر اکثر صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اور مفسّرین کا اتفاق ہے۔نازعات سے مراد طوائف الملائکۃ نَازِعَات کے ایک معنے اُکھیڑنے والی جماعتوں کے ہیں کہتے ہیں نَزَعَ الشَّیْءَ عَنْ مَّکَانِہٖ اَیْ قَلَعَہٗ۔یعنی کسی چیز کو اپنی جگہ سے اُکھیڑا۔پس ان معنوں کے رُو سے نَازِعَات کے معنے ہوں گے اپنی اپنی جگہ سے بعض چیزوں کو اکھیڑنے والے فرشتوں کے متعدد گروہوں کو ہم بطور شہادت پیش کرتے ہیں۔اوّلؔ تو اس ترجمہ سے اُس تمہید پر جسے میں بیان کر چکا ہوں مزید روشنی پڑتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف ایک گروہ فرشتوں کا نَزْعٌ کے کام پر مقرر ہے بلکہ خود نَزْعٌ کا کام مختلف اقسام کا ہے اور ہر کام پر الگ قسم کا گروہ مقرر ہے گویا یہاں سے فرشتوں کے گروہ در گروہ ہونے کا مسئلہ معلوم ہوتا ہے اورپتہ لگتا ہے کہ نَزْعٌ کے کام کے لئے کئی گروہ ہیں اورنَزْعٌ کی ہر قسم پر ایک ایک گروہ مقرر ہے اس سے معلوم ہوا کہ درحقیقت ہر سبب کا مسبب ایک فرشتہ ہوتا ہے اور چونکہ اسباب بے انتہاء اور لَا تُعَدُّوَ لَاتُحْصٰی ہیں اس لئے فرشتے بھی اَنْ گنت ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ مَایَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوَ (المدثر :۳۲)فرشتوں کی تعداد کا اندازہ انسان نہیں لگا سکتا۔جس طرح دنیا کے کاموں میں باریک در باریک اسباب کا سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے جن کا کوئی انسان اندازہ بھی نہیں لگا سکتا اسی طرح اُن پر جو ملائکہ مقرر ہیں ان کا بھی کوئی انسان اندازہ نہیں لگا سکتا۔ملائکہ کی مدد سے مسلمانوں کی ترقی اس آیت میں جو فرمایا کہ اپنی جگہ سے اکھیڑنے والے متعدد گروہ تو اس میں اکھیڑنے سے مراد کفّار کے اُن دلوں کا اُکھیڑنا ہے جو بظاہر کافر لیکن بباطن اسلام سے مناسبت رکھتے تھے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس سے پہلی سورۃ میں غلبۂ اسلام اور غلبۂ قرآن کا ذکر تھا اور اس غلبہ کو قیامت کا ثبوت قرار دیا گیا تھا پس اس ترتیب کے مطابق یہ ضروری تھا کہ اس سورۃمیں یہ بتایا جاتا کہ یہ غلبہ کس طرح ہو گا۔اسلام کس طرح ترقی کرے گا اور کفر کی بنیادوں کو کس طرح اکھیڑا جائے گا اسی لئے اس کو وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا سے شروع کیا گیا اور بتایا گیا