تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 134
ان معنوں کے لحاظ سے بھی یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جو بات نَازِعَات میں بیان کی گئی تھی وہی نَاشِطَاتِ میں بیان کی گئی ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں نَازِعَات سے مراد بھی فرشتوں کے گروہ ہیں جو جان نکالتے ہیں اور نَاشِطَاتِ سے مراد بھی فرشتوں کے گروہ ہیں جو جان نکالتے ہیں گویا ان معنوں کو تسلیم کرلینے کی صورت میں پھر بھی یہ دِقّت باقی رہے گی کہ جو بات ایک آیت کے ذریعہ ادا کی جا سکتی تھی اس کے لئے دو آیتیں کیوں لائی گئی ہیں پس یہ ایک دِقّت ضرور ہے لیکن جہاں تک محل کا سوال ہے ان آیات کے معنوں میں فرشتوں کا تسلیم کرناکوئی بعید بات نہیں بلکہ قرین قیاس ہے اور آیتوں کا مضمون اس کی تائید کرتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ نقص ضرور ہے کہ اس کی تفاصیل میں مفسّرین نے بعض ایسی باتیں بیان کی ہیں جن کے متعلق یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اُن میں بلا وجہ تکرار سے کام لیا گیا ہے۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم میں بعض مقامات میں تکرار بھی پایا جاتا ہے مگر وہی تکرار مفید ہوتا ہے جو زائد معنے دیتا ہو۔اور اگر اُس تکرار کو اُڑا دیا جائے تو ساتھ ہی مضمون کے وہ زائد معنے بھی اُڑ جاتے ہوں لیکن جہاں ایسے معنے نہ ہو سکیں وہاں کلام الٰہی میں تکرار ایک عیب کی چیز ہے۔بہرحال اگر اس نقص کو دُور کر کے اِن معنوں کو قرآن کریم کی اِن آیات پر چسپاں کیا جا سکے تو اس میںکوئی شبہ نہیں کہ یہ معنے بالکل قرین قیاس اور آیات کے مضمون کے مطابق ہوں گے۔نازعات سے مراد غازیوں کے گروہ تیسرے معنے جن کی طرف سب سے کم توجہ دی گئی ہے مگر درحقیقت وہ سب سے زیادہ اِن آیات پر چسپاں ہوتے ہیں اور جن کی طرف تفاسیر میں اشارہ بھی پایا جاتا ہے وہ یہ ہیں کہ ان میں نَازِعَاتِ سے مراد وہ غازی ہیں جو تیر اندازی کرتے اور غزوات میں اپنے گھوڑے دوڑاتے ہیں۔یہ معنے سب سے زیادہ قرین قیاس ہیں لیکن انہی معنوں کی طرف سب سے کم مفسّرین نے توجہ کی ہے پس اگر اُن کے اس فقرہ پر ہم کوئی عمارت کھڑی کر سکیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس میں کچھ حصہ پُرانے مفسّرین کا بھی ہے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم ہی اس کے موجد ہیں بلکہ ہمیں اس بارہ میں پُرانے مفسّرین کی راہنمائی کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ ان آیات پر ملائکہ کے معنے بھی چسپاں ہو سکتے ہیں جس کی طرف اکثر صحابہ اور تابعین اور بڑے بڑے مسلمانوں کا خیال گیا ہے اسی طرح ان آیات میں غازی بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اور گو ہم نہیں کہہ سکتے کہ تابعین سے یہ معنے مروی ہیں مگر بہرحال مفسّرین نے اس خیال کا اظہار کیا ہے اور یہ معنے بھی یقیناً ایسے ہیں جو اس مقام پر چسپاں ہو سکتے ہیں اور اُن کا اس پہلو کے متعلق خیال پیدا کر دینا بھی ایک بہت بڑی خوبی ہے۔بیشک دفعہ بعض دفعہ عمارت بنانی بھی بڑی مشکل ہوتی ہے مگر عام طور پر عمارت بنانی اتنی مشکل نہیں ہوتی جتنی راہنمائی مشکل