تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 115
کاذب اور صادق میں امتیاز کرنا ضروری تھا اس لئے خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا ثبوت پیش کرنا جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ کلام جو اس کی طرف منسوب کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے درست ہے یا نہیں اس کی شا ن کے خلاف نہیں بلکہ اُس کی شانِ رحیمیت کا عین تقاضا ہے۔وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی طرف ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اگر وہ اپنے اُس کلام کی صداقت کا کوئی ثبوت پیش نہ کرے جسے وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ اگر اُسے کہا جائے کہ کوئی ثبوت اپنی سچائی میں پیش کرو تو وہ اس بات کو خدا تعالیٰ کی ہتک قرار دینے لگے تو نظام عالم پر تباہی آجائے۔روز کوئی نہ کوئی مدعی کھڑا ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا شروع کردے ا ِسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ واجب کر لیا ہے کہ وُہ اپنے کلام کی سچائی کے ثبوت میں تائیدی شہادات پیش کیا کرے ورنہ کمزور لوگوں کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہے۔پس ا للہ تعالیٰ کا ایسے ثبوت پیش کرنا اس کی شان کے خلاف نہیں بلکہ اس کی گواہی اپنے کلام کی سچائی کے لئے نہایت ہی ضروری ہے۔اس لئے بھی کہ بندوں پر ثابت ہو جائے کہ وہ خدا کا کلام تھا اور اس لئے بھی کہ کوئی جھوٹا آدمی یہ جرأت نہ کرے کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے خدا تعالیٰ کی طرف باتیں منسوب کرنے لگ جائے۔جب یہ بات ثابت ہو گئی تو اب اس امر کے تسلیم کرنے میں کوئی روک نہیں ہو سکتی۔کہ کوئی ایسا ثبوت جو حلف کے مشابہ ہو یقیناً ایک بہت بڑا ثبوت کلام الٰہی کی صداقت کا ہو گا۔اور خدا تعالیٰ کا اپنے کلام کی تائید میں کسی ایسی دلیل کا پیش کرنا اس کی شان کے خلاف نہ سمجھا جائے گا بلکہ عین ضروری ہو گا۔کسی کلام کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت حلف ہی ہوتا ہے جب ہم یہ ثابت کر چکے ہیں کہ اپنے کلام کی صداقت کا ثبوت خدا تعالیٰ کو بھی پیش کرنا چاہیے تو اب سوال یہ ہے کہ صداقت کا ثبوت سب سے بڑا کون سا ہوتا ہے؟ دنیا میں صداقت کاسب سے بڑا ثبوت حلف کو سمجھا جاتا ہے بلکہ آخری فیصلہ حلف پرہی قرار پاتا ہے کیونکہ بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جنہیں حلف کے بغیر اور کسی بات سے اطمینان ہی نہیں ہوتا۔وہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ فلاں شخص نیک ہے وہ یہ بھی یقین رکھتے ہوں گے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا مگر ساتھ ہی اُن کے دلوں میں یہ شبہ بھی ہو گا کہ کہیںیہ سب کچھ ڈھکونسلہ ہی نہ ہو کہ آسمان سے فرشتے اُترتے اور اللہ تعالیٰ کا کلام لاتے ہیں یا اللہ تعالیٰ بالمشافہ کسی شخص سے گفتگو کر سکتا ہے۔لیکن جب کوئی قسم کھا لیتا ہے توان کو تسلی ہو جاتی ہے اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ صرف ڈھکو نسلہ نہیں بلکہ مشاہدہ اس کی تائید میں ہے۔اگر مشاہدہ اس کی تائید میں نہ ہوتا تو یہ قسم کیوں کھاتا۔قرآن کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا قسم کھانا پس شبہ کو دور کرنے والی آخری چیز حلف ہی ہے اور جب شُبہات کو دُور کرنے کا خدا تعالیٰ نے حلف کو ایک قطعی اور یقینی ذریعہ قرار دیا ہوا ہے تو خدا تعالیٰ