تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 111

لُفَّاحٌ وہ بُوٹی ہے جسے سُونگھا جاتا یعنی ناک سے لگایا جاتا ہے۔فَحْلٌ سانڈ کو کہتے ہیں جو مادہ پر سوار ہوتا ہے۔فَحْلۃٌ اس عورت کو کہتے ہیں جو پیچھے پڑ جائے اور راوی بھی فَحْلٌ کہلاتا ہے کہ روایات یاد رکھنے کے لئے وہ ساتھ رہتا ہے۔فَلَاح یعنی کامیابی کے بھی یہی معنے ہیں کہ انسان اپنے مطلب کو پالیتا ہے۔گویا یہ سب معنے اکٹھا کرنے۔جوڑنے اور ساتھ ملانے پر دلالت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ ایک اور معنے بھی پائے جاتے ہیں اور وہ آگ کے جلانے۔تلوار مارنے اور زمین اور پانی کو پھاڑنے کے ہیں۔گویا بعض اوقات کسی چیز کا دکھ دینا۔جلانا یا چبھنا بھی اسی کے مفہوم میں شامل ہیں۔یہ ددنوں معنے قَسم کے اُس عام مفہوم سے ملتے ہیں جو ہمارے ملک میں سمجھا جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی زبان میں جہاں بھی حاء اور لام اور فاء اکٹھے ہوں گے وہاں دو معنے ضرور پائے جائیں گے۔ایک ؔ یہ کہ کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے جوڑنا۔اور دوسرےؔ یہ کہ کسی چیز کو پھاڑنا۔جلانا اور نقصان پہنچانا۔اِن دونوں معنوں کو اگر مدنظر رکھا جائے تو حلف کے یہ معنے ہوں گے کہ ایک کو دوسرے کے ساتھ ملانا۔مگر اس طرح کہ بعض صورتوں میں قطع تعلق اور مخالفت کا بھی خطرہ ہو اور یہی غرض حلف کی ہوتی ہے۔انسان قسم اس لئے کھاتا ہے کہ جس کی حلف اُٹھاتا ہے اُسے اپنا گواہ اور ساتھی قرار دیتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ اگر اُس کا نام میںغلط طور پر لیتا ہوں تو وہ مجھے سزا دے یا میرے جھوٹ پر گواہ ہو۔پس حلف کا مفہوم یہ ہوا کہ بندہ ایک طرف خدا کو اپنے ساتھ ملاتا ہے اور کہتا ہے خدا میرے ساتھ ہے اور اُس کا علم میری اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔اور دوسری طرف وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر میں نے جھوٹ بولا ہےتو میں پھاڑا جائوں۔جِلایا جائوں۔تباہ کر دیا جائوں۔دوسرا لفظ قسم کے لئے عربی زبان میں قَسَم ہی ہے کہتے ہیں اَقْسَمَ بِاللّٰہِ اُس نے اللہ کی قسم کھائی یا اُقْسِمُ بِاللّٰہِ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں اِس کا ثلاثی قَسَم ہے اور اس کے تین معنے ہیں قَسَم الرَّجُلُ الْمَالَ: جَزَّأَہٗ اَوْ فَرَزَہٗ اَجْزَاءً (اقرب) اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے یا اُسے تقسیم کیا۔نیز کہتے ہیں قَسَم الدَّھْرُ الْقَوْمَ: فَرَّقَھُم (اقرب) قوم کو گردشِ زمانہ نے بکھیر دیا یا ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔پھر کہتے ہیں قَسَم فُلَانٌ اَمْرَہٗ: قَدَّرَہٗ وَنَظَرَ فِیْہِ کَیْفَ یَفْعَلُ اَوْ لَمْ یَدْرِمَا یَصْنَعُ فِیْہِ (اقرب) یعنی جب یہ کہیںکہ قَسَم فُلَانٌ اَمْرَہٗ تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اُس نے اپنے کام کی تقسیم کی۔اُس کا اندازہ کیا اور ا س کے متعلق غور کیا کہ اُسے وہ کس طرح کرے یا وہ شک میں پڑ گیا کہ اس کام کو کس طرح سرانجام دے۔عربی زبان میں قسم کے لئے استعمال ہونے والے الفاظ کی آپس میں معنی کی شرکت میرے