تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 107

کھاتا ہے وہ بھی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اگر میں نے جھوٹی قسم کھائی تو خدا تعالیٰ کی گرفت میں آجائوں گا اور سننے والا بھی سمجھتا ہے کہ اگر اس نے جھوٹ بولا تو چونکہ اس نے اپنے جھوٹ میں خدا تعالیٰ کو بھی شریک کر لیا ہے اس لئے وہ اسے سزا دئے بغیر نہیں چھوڑے گا۔پس قسم میں ایکؔ تو دوسروں کو اس بات کا یقین دلانا مدنظر ہوتا ہے کہ مجھے اپنی بات کی سچائی پر اس قدر کامل یقین ہے کہ میں خدا تعالیٰ کو بھی اپنے بیان کا گواہ بناتا ہوں گویا میرے علم اور خدا تعالیٰ کے علم میں جہاں تک اس بات کا تعلق ہے بالکل مطابقت ہے کوئی بات خلاف حقیقت میں نے بیان نہیں کی۔دوسرےؔ سننے والوں کو تسلّی ہو جاتی ہے کہ اگر قسم کھانے والے نے خدا کو اپنے جھوٹ میں شریک کیا تو ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں خدا تعالیٰ خود اسے سزا دے گا۔غرض یہ حکمت ہے جو قسموں میں پائی جاتی ہے ایک طرف انسان خدا تعالیٰ سے اپنے اتّحاد کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس بارہ میں میرا علم اور خدا کا علم ایک ہی ہے مثلاً جب وہ کہتا ہے میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ زیدؔ لاہور گیا ہے تو اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جو علیم وخبیر ہے جو زمین وآسمان کے ذرّہ ذرّہ کے حالات کو جاننے والا ہے جس سے کوئی بات پوشید ہ نہیںاس بارہ میں اُس کا علم اور میرا علم ایک ہی ہے۔دوسرےؔ سننے والوں کی تسلّی ہو جاتی ہے کہ اگر اُس نے افتراء سے کام لیا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے خود پکڑے گا اور جب پکڑے گا اُس وقت ہمیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ اس شخص نے جھوٹ اور افتراء سے کام لیا تھا۔گویا قسم میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ایک ؔ خدا تعالیٰ کے علم کے ساتھ اپنے علم کو شریک کر نا اور کہنا کہ میرا علم اور خدا تعالیٰ کا علم اس بارہ میں ایک ہی ہے۔دوسرےؔ خدا تعالیٰ کی سز ا کو چیلنج کرنا کہ اگر میں غلط کہہ رہا ہوں تو میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ وہ مجھے پکڑے اور اپنے عذاب میں گرفتار کر ے۔مگر خدا تعالیٰ پر تونہ کوئی حاکم ہے نہ اُس پر کسی کا حکم جاری ہے نہ اُسے کوئی سزا دے سکتا ہے اور جب نہ خدا تعالیٰ پر کوئی حاکم ہے نہ اُس پر کسی کاحکم جاری ہے اور نہ اُسے کوئی سزا دے سکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر اُس کے قسم کھانے میں کیا فائدہ مدنظر ہو سکتا ہے۔جب کوئی انسان قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں نے ایسا کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چونکہ میں نے خدا تعالیٰ کو بھی اپنے فعل میں شریک کر لیا ہے اس لئے اگر میں نے ایسا نہیں کیا تو وہ مجھے سزا دے گا۔لیکن خدا تعالیٰ کو توکوئی سزا نہیں دے سکتا۔پھر قسم میں اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ اس بارہ میں میرا علم اور خدا تعالیٰ کا علم یکساں ہے۔مگر خدا تعالیٰ قسم کھاتا ہے تو اُس میں یہ حکمت بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ کا علم بہرحال غالب ہے دوسرے کے علم کو یکساں قرار دینے سے اُس کے بیان کو کوئی تقویت حاصل نہیں ہوتی۔پس وہ کسی دوسرے علم کو اپنے علم کی شہادت کے طور پر پیش نہیں کر سکتا۔پھر ایسی قسم کا نتیجہ ہی کیا نکلے گا