تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 99

آنحضرت ؐ کو مکہ میں قبول نہ کرنے کی وجہ سے سردران مکہ کے دلوں میں حسرت حضرت عمرؓ ایک دفعہ اپنے زمانۂ خلافت میں مکّہ تشریف لائے تو شہر کے بڑے بڑے رؤسا جو مشہور خاندانوں میں سے تھے اُ ن کے ملنے کے لئے آئے۔انہیں خیال پیدا ہوا کہ حضرت عمر ؓ ہمارے خاندانوں سے اچھی طرح واقف ہیں اس لئے اب جب کہ وہ خود بادشاہ ہیں ہمارے خاندانوں کا بھی پوری طرح اعزاز کریں گے اور ہم پھر اپنی گم گشتہ عزت کو حاصل کر سکیں گے۔چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے آپ سے باتیں شروع کر دیں ابھی وہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ حضرت عمرؓ کی مجلس میں بلالؓ آگئے۔تھوڑی دیر گزری تو حضرت خبابؓ آگئے اور اسی طرح یکے بعد دیگرے اول الایمان غلام آتے چلے گئے۔یہ وہ لوگ تھے جو ان رئوسا یا اُن کے آباء کے غلام رہ چکے تھے اور جن پر وہ اپنی طاقت کے زمانہ میں شدید ترین مظالم کیا کرتے تھے حضرت عمرؓ نے ہر غلام کی آمد پر اُس کا استقبال کیا اور رئوساء سے کہا آپ ذرا پیچھے ہو جائیں اور اُن کو آگے بیٹھنے کے لئے جگہ دے دیں حتیٰ کے وہ نوجوان رئوسا جو آپ سے ملنے آئے تھے ہٹتے ہٹتے دروازہ تک جا پہنچے۔اُس زمانہ میں کوئی بڑے بڑے ہال تو ہوتے نہیں تھے ایک چھوٹاسا کمرہ ہو گا اور چونکہ وہ سب اس میں سما نہیں سکتے تھے اس لئے اُن کو پیچھے ہٹتے ہٹتے جوتیوں میں بیٹھنا پڑا۔جب مکّہ کے وہ رئوسا جوتیوں میں جا پہنچے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح ایک کے بعد ایک مسلمان غلام آیا اور اُس کو آگے بٹھانے کے لئے اُن کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا گیا تو اُن کے دل کو سخت چوٹ لگی۔خدا تعالیٰ نے بھی اُس وقت کچھ ایسے سامان پیدا کر دئے کہ یکے بعد دیگرے کئی ایسے مسلمان آ گئے جو کسی زمانہ میں کفّارکے غلام رہ چکے تھے۔اگر ایک بار ہی وُہ رئوسا پیچھےہٹتے تو اُن کو احساس بھی نہ ہوتا مگر چونکہ بار بار اُن کو پیچھے ہٹنا پڑا اس لئے وہ اس بات کو برداشت نہ کر سکے اور اُٹھ کر باہر چلے گئے۔باہر نکل کر وہ ایک دوسرے سے شکایت کرنے لگے کہ دیکھو آ ج ہماری کیسی ذلّت اور رسوائی ہوئی ہے۔ایک ایک غلام کے آنے پرہم کو پیچھے ہٹایا گیا۔یَہاں تک کہ ہم جوتیوں میں جا پہنچے۔اس پر اُن میں سے ایک نوجوان بولا اس میں کس کا قصور ہے عمرؓ کا ہے یا ہمارے باپ دادا کا؟اگر تم سوچو تو معلوم ہوگا کہ اس میں عمر ؓکا کوئی قصور نہیں۔یہ ہمارے باپ دادا کا ہی قصور تھا جس کی آج ہمیں سز ا ملی۔کیونکہ خدا نے جب اپنا رسول مبعوث فرمایا تو ہمارے باپ دادا نے مخالفت کی مگر ان غلاموں نے اُس کو قبول کیا اور ہر قسم کی تکالیف کو خوشی سے برداشت کیا اس لئے آج اگر ہمیں مجلس میں ذلیل ہونا پڑا ہےتو اس میں عمرؓ کا کوئی قصور نہیں ہمارا اپنا قصور ہے۔اس کی یہ بات سُن کر دوسرے کہنے لگے ہم نے یہ تو مان لیا کہ یہ ہمارے باپ دادا کے قصور کا نتیجہ ہے مگر کیا اس ذلّت کے داغ کو دُور کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں؟ اس پر سب نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہماری سمجھ میں تو کوئی بات نہیں آتی چلو حضرت عمرؓ سے ہی پوچھیں کہ اس کاکیا علاج ہے؟ چنانچہ وہ حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے اُس کو آپ بھی خوب جانتے ہیںاور ہم بھی خوب جانتے ہیں۔حضرت عمرؓ فرمانے لگے معاف کرنا میں مجبور تھا کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں معزز تھے۔اس لئے میرا بھی فرض تھا کہ اُن کی عزت کرتا۔انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں یہ ہمارے ہی قصور کا نتیجہ ہے لیکن آیااس عار کو مٹانے کا کوئی بھی ذریعہ ہے؟ ہم لوگ تو اس کا اندازاہ بھی نہیں لگا سکتے کہ اُنہیں مکّہ میں کس قدر رسوخ حاصل تھا لیکن حضرت عمرؓ اُن کے خاندانی حالات کو خُوب جانتے تھے۔آپ مکہ میں پیدا ہوئے اور مکہ میں ہی بڑے ہوئے اس لئے آپ جانتے تھے کہ ان نوجوانوں کے باپ دادا کس قدر عزت رکھتے تھے۔آپ جانتے تھے کہ کوئی شخص ان کے سامنے آنکھ اٹھانے کی بھی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔اور آپ جانتے تھے کہ اُنہیں کس قدر رُعب اور دبدبہ حاصل تھا۔جب انہوں نے یہ بات کہی تو حضرت عمرؓ کے سامنے ایک ایک کر کے یہ تمام وقعات آگئے اور آپ پر رقّت طاری ہو گئی۔اُس وقت آپ غلبۂ رقّت کی وجہ سے بول بھی نہ سکے صرف آپ نے ہاتھ اُٹھایا اور شمال کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ شمال میں یعنی شام میں بعض اسلامی جنگیں ہو رہی ہیں اگر تم ان جنگوں میں شامل ہو جائو تو ممکن ہے اس کا کفّارہ ہو جائے چنانچہ وہ وہاں سے اٹھے اور جلد ہی ان جنگوں میں شامل ہونے کے لئے چل پڑے(مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب الباب الثامن و الثلا ثون ذکر عدلہ فی رعیتہ)۔تاریخ بتاتی ہے کہ اُن میں سے ایک شخص بھی زندہ واپس نہیں آیا سب اسی جگہ شہید ہو گئے اور اس طرح انہوں نے اپنے خاندانوں کے نام پر سے داغِ ذلّت کو مٹا دیا۔پیشگوئیوں کے مطابق اسلامی غلبہ یہ لوگ تو مخلص تھے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لا چکے تھے جب اُن کا یہ حال تھا تو سمجھ لو کہ کفّار کا کیا حال ہو تا ہو گا۔وہ کس طرح ان حالات کو دیکھ دیکھ کر کُڑھتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے ہائے ہم مٹ جاتے۔ہم مر کر فنا ہو چکے ہوتے مگر یہ دن ہمیں دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔جب وہی لوگ جن کو وہ گلیوں میں گھسیٹا کرتے تھے جن کے سینوں پر وہ بڑے بڑے گرم پتھّر رکھ کر انہیں اسلام سے پھرانے کی کوشش کرتے تھے۔جن کو مارتے اور گالیاں دیتے اور ہر قسم کے دُکھ پہنچایا کرتے تھے فتح مکہ کے دن گھوڑے دوڑاتے ہوئے آئے ہوں گے اور یہ لوگ اپنے گھروں میں چھپ کر بیٹھ رہے ہوں گے کہ کہیں ان لوگوں کی ہم پر نظر نہ پڑ جائے۔تو کس طرح اُن کو اپنی عزتیں خاک میں ملتی ہوئی نظر آتی ہوں گی۔کس طرح بار بار اُن کی زبان سے یہ نکلتا ہو گا کہ کاش ہم اس سے پہلے ہی مر کر فنا ہو چکے ہوتے اور اپنی ذلّت کا یہ دن نہ دیکھتے۔غرض ابتدائی ایام اسلام میں ہی اللہ تعالیٰ نے وہ سارا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا جو آئندہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کا ہونے والا تھا۔ابھی وہ بہت سے لوگ زندہ تھے۔جنہوں نے اس نقشہ کو ایک مجنون کی بڑ سے زیادہ وقعت نہ دی تھی کہ خدا کی بات پوری ہو گئی اور ان لوگوں نے اپنی آنکھوں سے اس نقشہ کے مطابق پیدا ہوتے ہوئے حالات دیکھ لئے۔خ خ خ خ