تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 98

کمرہ ہو گا اور چونکہ وہ سب اس میں سما نہیں سکتے تھے اس لئے اُن کو پیچھے ہٹتے ہٹتے جوتیوں میں بیٹھنا پڑا۔جب مکّہ کے وہ رئوسا جوتیوں میں جا پہنچے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح ایک کے بعد ایک مسلمان غلام آیا اور اُس کو آگے بٹھانے کے لئے اُن کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا گیا تو اُن کے دل کو سخت چوٹ لگی۔خدا تعالیٰ نے بھی اُس وقت کچھ ایسے سامان پیدا کر دئے کہ یکے بعد دیگرے کئی ایسے مسلمان آ گئے جو کسی زمانہ میں کفّارکے غلام رہ چکے تھے۔اگر ایک بار ہی وُہ رئوسا پیچھےہٹتے تو اُن کو احساس بھی نہ ہوتا مگر چونکہ بار بار اُن کو پیچھے ہٹنا پڑا اس لئے وہ اس بات کو برداشت نہ کر سکے اور اُٹھ کر باہر چلے گئے۔باہر نکل کر وہ ایک دوسرے سے شکایت کرنے لگے کہ دیکھو آ ج ہماری کیسی ذلّت اور رسوائی ہوئی ہے۔ایک ایک غلام کے آنے پرہم کو پیچھے ہٹایا گیا۔یَہاں تک کہ ہم جوتیوں میں جا پہنچے۔اس پر اُن میں سے ایک نوجوان بولا اس میں کس کا قصور ہے عمرؓ کا ہے یا ہمارے باپ دادا کا؟اگر تم سوچو تو معلوم ہوگا کہ اس میں عمر ؓکا کوئی قصور نہیں۔یہ ہمارے باپ دادا کا ہی قصور تھا جس کی آج ہمیں سز ا ملی۔کیونکہ خدا نے جب اپنا رسول مبعوث فرمایا تو ہمارے باپ دادا نے مخالفت کی مگر ان غلاموں نے اُس کو قبول کیا اور ہر قسم کی تکالیف کو خوشی سے برداشت کیا اس لئے آج اگر ہمیں مجلس میں ذلیل ہونا پڑا ہےتو اس میں عمرؓ کا کوئی قصور نہیں ہمارا اپنا قصور ہے۔اس کی یہ بات سُن کر دوسرے کہنے لگے ہم نے یہ تو مان لیا کہ یہ ہمارے باپ دادا کے قصور کا نتیجہ ہے مگر کیا اس ذلّت کے داغ کو دُور کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں؟ اس پر سب نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہماری سمجھ میں تو کوئی بات نہیں آتی چلو حضرت عمرؓ سے ہی پوچھیں کہ اس کاکیا علاج ہے؟ چنانچہ وہ حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے اُس کو آپ بھی خوب جانتے ہیںاور ہم بھی خوب جانتے ہیں۔حضرت عمرؓ فرمانے لگے معاف کرنا میں مجبور تھا کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں معزز تھے۔اس لئے میرا بھی فرض تھا کہ اُن کی عزت کرتا۔انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں یہ ہمارے ہی قصور کا نتیجہ ہے لیکن آیااس عار کو مٹانے کا کوئی بھی ذریعہ ہے؟ ہم لوگ تو اس کا اندازاہ بھی نہیں لگا سکتے کہ اُنہیں مکّہ میں کس قدر رسوخ حاصل تھا لیکن حضرت عمرؓ اُن کے خاندانی حالات کو خُوب جانتے تھے۔آپ مکہ میں پیدا ہوئے اور مکہ میں ہی بڑے ہوئے اس لئے آپ جانتے تھے کہ ان نوجوانوں کے باپ دادا کس قدر عزت رکھتے تھے۔آپ جانتے تھے کہ کوئی شخص ان کے سامنے آنکھ اٹھانے کی بھی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔اور آپ جانتے تھے کہ اُنہیں کس قدر رُعب اور دبدبہ حاصل تھا۔جب انہوں نے یہ بات کہی تو حضرت عمرؓ کے سامنے ایک ایک کر کے یہ تمام وقعات آگئے اور آپ پر رقّت طاری ہو گئی۔اُس وقت آپ غلبۂ رقّت کی وجہ سے بول بھی نہ سکے صرف آپ نے ہاتھ اُٹھایا اور شمال کی طرف انگلی سے