تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 81

کہ ملکہ سباکو اپنی مملکت کے لحاظ سے جس قدر چیزوں کی ضرورت ہوسکتی ہے وہ تما م چیزیں اسے میسر ہیں۔اوروہ بڑی بیدار مغز حکمران ہے۔شاید یہ کہہ کر اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ڈراناچاہاکہ کہیں وہ اس کے ملک کے ایک حصہ پر قبضہ نہ کرلیں۔لیکن ساتھ ہی اس نے ایسی بات کہہ دی جس کی وجہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے ارادہ میں اور بھی پختہ ہوگئے۔اوروہ یہ کہ میں نے ملکہ او راس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کو چھو ڑکر سورج کی پرستش کرتے دیکھا ہے اورشیطان نے ان کو اپنے اعمال پر بڑانازاں کردیاہے اور توحید کے رستہ سے ہٹادیاہے اوروہ اس بات پر مصر ہیں کہ اس خدا کو سجدہ نہ کریں جو آسمان اور زمین کے تمام چھپے رازوں کو ظاہر کرنے والا ہے او رجس نے سورج اورچاند کو محض ایک خاد م کی حیثیت دی ہے اورعلومِ ظاہری اور باطنی اپنے انبیاء کو بتادیئے ہیں۔وہ اللہ جوکہ موحدوں کا خداہے اس کی بادشاہت اس ملکہ کی بادشاہت سے بہت بڑی ہے اور ضرور اس کی بادشاہت غالب آئے گی اس طرح اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو خوش کرنے کی کوشش کی اور بتایا کہ وہ بلاوجہ غیر حاضر نہیںرہا۔بلکہ اس نے ملکی مفاد کے لئے یہ تحقیق کرنا ضروری سمجھا تھا۔قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۰۰۲۸ (اس پر سلیمان نے )کہا۔کہ ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ بولا ہے یاتُو جھوٹوں میں سے ہے۔اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ تومیرایہ خط لے جا اوراسے ان کے (یعنی سباکی قوم کے )سامنے پھینک دے۔پھر (ادب سے ) فَانْظُرْ مَا ذَا يَرْجِعُوْنَ۰۰۲۹ پیچھے ہٹ (کر کھڑاہو)جا اوردیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔تفسیر۔اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ بہت اچھا ہم نے جاناتوضرورہے۔ہم وہاں جاکردیکھیں گے کہ تُو نے سچ بولاہے یاایک جھوٹی رپورٹ پیش کردی ہے۔تُو میرایہ خط لے جا۔اوران لوگوں کے سامنے جا کر انہیں یہ خط پیش کردے اور پھر ذراپیچھے ہٹ کر کھڑےہوجائیو۔اوردیکھئیو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ذرادیکھو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جیسا عقلمندنبی ایک پرندے کو کیانصیحت کرتاہے۔کبوتروں کی گردن