تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 77
دونوں پہلوئوں کو جانتا او رتمام حالات پر مکمل نگاہ رکھتا ہے۔مفسر کہتے ہیں کہ ہدہد کوئی جانور تھا۔حالانکہ حَمَلَھَا الْاِنْسَانُ والی آیت موجود ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کے سواکوئی اَورمخلوق اسرار شریعت کی حامل نہیں۔پس جبکہ ہدہدبھی اسرار شریعت سے واقف تھا تولازماً وہ بھی انسان ہی تھا نہ کہ پرندہ۔بعض لوگ سوال کیاکرتے ہیں کہ اگر یہ ہدہد آدمی ہی تھا تواس کے لئے ذبح کا لفظ کیوں استعمال کیاگیاہے۔سویاد رکھناچاہیے کہ عربی زبان میں ذبح کالفظ قتل کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے(تاج العروس)جیسے قرآن کریم میں فرعون اور اس کے ساتھیوںکے متعلق ہی آتاہے کہ یُذَبِّحُ اَبْنَائَ ھُمْ (القصص :۵) وہ بنی اسرائیل کے بیٹوں کوقتل کیاکرتاتھا۔اگرذبح کے لفظ سے ہدہد کوپرندہ قراردینا درست ہو سکتا ہے توکیا یُذَبِّحُ اَبْنَائَ ھُمْ کے یہ معنے ہیں کہ وہ سب پرندے تھے جن کو ذبح کیاجاتاتھا۔پھر بعض دفعہ جب کسی مناسبت کی بنا ء پر کوئی نام رکھا جاتا ہے تو حسنِ کلام کے لئے الفاظ بھی اسی رنگ کے استعمال کئے جاتے ہیں۔جیسے کسی کو شیر قرار دیا جائے تو کہا جائے گا کہ وہ شیر کی طرح دھاڑتا ہے یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ شیر کی طرح سریلی آواز سے گاتا ہے۔اسی طرح جب ہد ہد کا ذکر کیا گیا تو گووہ ایک سردار تھا مگر ہد ہد کی مناسبت سے اس کے لئے ذبح کا لفظ استعمال کردیا گیا جو حسنِ کلام کا ایک لطیف نمونہ ہے۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں ہد ہد نام کیوں رکھا گیا۔اور گو اس کا عقلی جواب میں قرآن کریم سے ہی دے چکا ہوں۔مگر اب بتاتا ہوں کہ ہد ہدسے مراد کیا ہے۔ہُدہُد کا پتہ لینے کے لئے جب ہم بنی اسرائیل کی کتابیں دیکھتے ہیں اور اس امر پر غور کرتے ہیں کہ کیا ان میں کسی ہد ہد کا ذکر آتا ہے۔تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں یہودیوں میں کثرت سے ھُدَدْ نام ہوا کرتا تھا۔جو عبرانی سے عربی میں بدل کر ہد ہد ہوگیا۔جیسے عبرانی میں ابراہامؔ کہا جاتا ہے مگر جب یہ لفظ عربی میں آیا تو ابراہیمؔ بن گیا۔اسی طرح عبرا نی میں یسوع کہا جاتا ہے اور عربی میں عیسیٰؔ کہتے ہیں اسی طرح عبرانی میں موشے کہا جاتا ہے اور عربی میں یہی نام موسیٰ ہوگیا۔اب بھی کسی اہل عرب کو لکھنؤ کہنا پڑے تو وہ لکھنؤنہیں بلکہ لکھناؔہوء کہے گا۔اسی طرح عبرانی میں ھُدَدْ کہا جاتا تھا مگر چونکہ قرآن کریم عربی میں ہے اس لئے جب یہ نام اس میں آیا تو ھُدھُد ہوگیا۔تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ھُدَدْ کئی ادومی بادشاہوں کا نام تھا۔اور اس کے معنے بڑے شور کے ہوتے ہیں۔عربی زبان میں ھدّ کے ایک معنے اَلصَّوْتُ الْغَلِیْظُ۔یعنی بڑی بلند آواز کے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اونچی آواز والے لڑکے کا نام ھُدَدْ یا ھُدْھُدْ رکھ دیتے تھے مگر یہ نام تیسرے ادومی بادشاہ کا بھی تھا جس