تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 481
جاتی ہے۔پس اصل گُر انسانی ترقی کایہی ہے کہ جوچیز اسے اچھی نظر آئے اسے مضبوطی سے پکڑ لے۔پہلے وہ اپنے دل میں فیصلہ کرلے کہ میں نے اچھی چیز کو لینا ہے اورپھر اسے چھو ڑنا نہیں۔اس فیصلہ کے بعد اسے جوچیز بھی اچھی نظرآتی ہو اسے اس نیت کے ساتھ پکڑ لے کہ اب میں نے اسے چھو ڑنا نہیں۔جب انسان اس مقام پر آجاتاہے تووہ ساری دنیا سے سبق حاصل کرنے کے لئے تیار رہتاہے۔ایک بچے سے بھی سبق لے لیتا ہے ایک بوڑھے سے بھی سبق لے لیتا ہے۔ایک پاگل سے بھی سبق لے لیتا ہے۔غرض دنیا کی ہرچیز سے وہ فائدہ حاصل کرلیتا ہے۔حضرت امام ابو حنیفہ ؒ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ توبہت بڑے آدمی ہیںاور ساری دنیا آپ سے سبق لیتی ہے۔کیاآپ نے بھی کسی سے سبق لیا ہے۔انہوں نے کہا۔بہت دفعہ لیا ہے اورسب سے بڑاسبق میں نے ایک چھوٹے سے بچے سے لیا ہے۔اس نے کہا۔کس طرح؟ انہوں نے کہا۔وہ اس طرح کہ میں ایک دفعہ باہر جارہاتھا۔بارش ہورہی تھی کہ میں نے دیکھا کہ ایک سات آٹھ سال کابچہ گذررہاہے اورتیز تیز قدم اٹھارہا ہے۔میں نے اسے تیز قدم اٹھاتے دیکھ کرکہا۔بچے ذراسنبھل کرچلو۔کیچڑ ہے۔ایسانہ ہو کہ تم پھسل جائو۔اس لڑکے نے میری طرف دیکھااورکہا۔امام صاحبؒ میرے پھسلنے کا فکر نہ کیجئے۔آپ اپنا فکر کیجئیے۔اگرمیں پھسلاتو صرف میں پھسلوں گا۔لیکن اگرآپ پھسلے توساری دنیا پھسل جائے گی۔کیونکہ جب امام غلطی کرتاہے تواس کے ماننے والے بھی وہی غلطی کرنے لگ جاتے ہیں۔و ہ کہتے ہیں کہ لڑکاتویہ بات کہہ کر چلاگیا مگرمیں دیر تک کھڑا اس وعظ سے لطف اندوز ہوتارہا۔اورحقیقت یہی ہے کہ ساری عمر میں نے اتنی کارگراورمؤثر نصیحت کسی سے نہیں سنی۔توسیکھنے والا ایک بچہ سے بھی سبق سیکھ لیتا ہے۔بلکہ اگرانسان سیکھنے کی نیت رکھے اورسوچنے کی عادت ڈالے توزمین کی اینٹیں اورپہاڑوں کے درخت اورجنگلوں کی جھاڑیاں بھی انسان کے لئے قرآن اور حدیث کی تفسیر بن جاتی ہیں۔اوراگروہ سمجھنے کاارادہ نہ کرے توایسے بدبخت انسان کو نہ قرآن فائدہ دیتاہے نہ حدیث فائدہ دیتی ہے اورنہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فائدہ دیتے ہیں۔وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْافِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا میں اطمینانِ قلب کے حصول کا نسخہ بھی بتادیا گیا ہے جس کے لئے آج ساری دنیا مضطرب ہے۔اورہرشخص یہ سوال کرتادکھائی دیتا ہے کہ ہمیں دل کااطمینان کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔اطمینان قلب درحقیقت دوہی طرح حاصل ہو سکتا ہے (۱)یاتواس طرح کہ جو خواہش دل میںپیداہوپوری ہوجائے۔(۲)یااس طرح کہ تمام فضول اور لغو خواہشوںسے دل ہٹ جائے اورصر ف ایسی خواہشات رہ جائیں جواچھی بھی ہوں اور حاصل بھی ہوسکیں۔جب کوئی اس مقام پر پہنچ جائے تواسے اطمینا ن قلب حاصل ہو سکتا ہے۔قرآن کریم کہتاہے کہ ہم نے انسان کو صرف اس لئے پیدا کیاہے کہ وہ صفات الٰہیہ کواپنے اندر پیداکرے۔اورپھرفرماتا ہے کہ