تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 480

جاتے ہیں جوسچی محبت اورتڑپ سے کام لیتے اوراس کے لئے دیوانہ وار جدوجہدکرتے ہیں۔اسی لئے قرآن کریم نے یہ تو کہا ہے کہ جوہماری طرف آتے ہیں ہم ان کی مددکرتے ہیں لیکن اس نے یہ کہیں نہیں کہاکہ جو ہم سے بھاگتے ہیں ہم ان کو پکڑ کر واپس لاتے ہیں۔جو ہم سے منہ پھیرتے ہیں ہم ان کواپنی تائید سے نوازتے ہیں جو بیٹھنا چاہتے ہیں ہم ان کو جبراً کھڑا کر تے ہیں۔جوگرناچاہتے ہیں ہم ان کو زبردستی اٹھالیتے ہیں۔جو بے ایمان ہوناچاہتے ہیں ہم ان کو مجبورکرکے ایماندار بناتے ہیں۔قرآن یہی کہتاہے کہ جوبے ایمان ہوناچاہتاہے ہم اسے بے ایمان بنادیتے ہیں۔اورجوایمان دار ہوناچاہتاہے ہم اسے ایمان دار بنادیتے ہیں۔بہرحال انسانی زندگی کاخلاصہ صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے اندرایک پختہ عزم پیداکرے اوراچھی چیز کو پکڑ کر اس طرح بیٹھ جائے جیسے شکاری کتا اپنے شکار کو پکڑ کر بیٹھ جاتاہے۔اس کے دانت ٹوٹ جائیں توٹوٹ جائیں مگروہ اپنے شکار کو نہیں چھوڑتا۔جب انسان اس نیت اور ارادہ کے سا تھ ایک راستہ کو اختیا رکرلیتا ہے۔اوراچھی چیز کو پکڑ کر بیٹھ جاتاہے توپھر نیکیوں کی طرف اس کاقدم اٹھناشروع ہو جاتا ہے کیونکہ کوئی نیکی نہیں جواس سے اگلی نیکی کی توفیق نہیں دیتی۔اگر کوئی انسان سچے دل سے صدقہ دیتاہے توضرور ہے کہ اسے نماز کی بھی توفیق ملے اورزکوٰۃ کی بھی توفیق ملے اورروزہ کی بھی توفیق ملے اوراگر کوئی اخلاص کے ساتھ روزے رکھتا ہے توضرور ہے کہ اس نیکی کے نتیجہ میں اسے نماز اورزکوٰۃ اور حج کی توفیق ملے۔کیونکہ ہرنیکی دوسری نیکی کی طرف لے جاتی ہے۔بھلا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص جو کسی غریب سے ہمدردی کرتاہے اس سے محبت اورپیار کاسلوک کرتاہے اوردنیاداری کے خیالات کے ماتحت نہیں بلکہ سچے دل سے اسے کھاناکھلاتاہے ایسے شخص کے پاس اگرامانت رکھی جائے تووہ کھاجائے گا۔یہ قطعاً ناممکن بات ہے۔جس شخص کے دل میں دوسر وں کااتنا درد ہے اورجو ان کے لئے ہروقت قربانی کر نے کے لئے تیار رہتاہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ دوسروں کے مال میں خیانت کرے۔اگرسب لو گ مل کر بھی کہیں گے کہ اس نے دوسروں کامال کھایاہے توہم کہیں گے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔کیونکہ جس کے دل میںا پنامال قربان کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے۔و ہ دوسروں کے مال کوکبھی کھانہیں سکتا۔اسی طرح جس شخص کے دل میں خواہش پائی جاتی ہے کہ وہ خداکے لئے بھوکارہے کس طرح ماناجاسکتاہے کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا۔وہ ایک دن نماز نہیں پڑھے گادودن نماز نہیں پڑھے گا تین دن نماز نہیں پڑھے گا مگرآخراس کانفس اسے کہے گا کہ احمق تُو خداکے لئے بھوکارہتا ہے اورپھر اس کی عبادت نہیں کرتا اوروہ مجبور ہو گاکہ نماز پڑھے اورجب وہ نماز پڑھنے لگ گیا۔توپھر اسے کوئی ہٹانابھی چاہے تووہ نہیں ہٹ سکتا۔اسے قید کردو تووہ قید میں ہی نماز پڑھنے لگ جائے گا۔چارپائی پر باندھ دوتو لیٹے لیٹے نماز پڑھتارہے گا۔کیونکہ ایک نیکی دوسری نیکی کی طرف لے