تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 479

کر حیران رہ گئے۔کیونکہ وہ ہمیشہ ذکر الٰہی میں مشغول رہتے تھے مگرچونکہ سرکاری سمن تھا و ہ چل پڑے۔دس بیس میل گئے ہوں گے کہ آندھی آئی۔اندھیراچھاگیا۔آسمان پر بادل امڈ آئے اوربارش شروع ہوگئی۔وہ اس وقت ایک جنگل میں سے گذر رہے تھے جس میں دو ردور تک آبادی کاکو ئی نشان تک نہ تھا۔صرف چند جھو نپڑیاں اس جنگل میں نظر آئیں۔وہ ایک جھو نپڑی کے قریب پہنچے اورآواز دی کہ اگراجازت ہو تواندر آجائوں۔اندرسے آواز آئی کہ آجائیے۔انہوں نے گھوڑاباہرباندھا اوراند رچلے گئے۔دیکھاتو ایک اپاہج شخص چا رپائی پرپڑاہے۔اس نے محبت اورپیار کے ساتھ انہیں اپنے پاس بٹھالیا اورپوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے اورآپ کس جگہ سے تشریف لارہے ہیں۔انہوں نے اپنانام بتایااورساتھ ہی کہا کہ بادشاہ کی طرف سے مجھے ایک سمن پہنچا ہے جس کی تعمیل کے لئے جارہاہوں۔اورحیران ہوں کہ مجھے یہ سمن کیوںآیا۔کیونکہ میں نے کبھی دنیوی جھگڑوں میں دخل نہیں دیا۔وہ یہ واقعہ سن کرکہنے لگا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔یہ سامان اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے پا س پہنچانے کے لئے کیاہے۔میں اپاہج ہوں رات دن چارپائی پر پڑارہتاہوں مجھ میں چلنے کی طاقت نہیں۔لیکن میں نے اپنے دوستوں سے آپ کاکئی بار ذکر سنا۔اورآپ کی بزرگی کی شہر ت میرے کانوں تک پہنچی۔میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیںکیاکرتاتھا کہ یااللہ قسمت والے تووہاں چلے جاتے ہیں میں غریب مسکین اورعاجز انسان اس بزرگ کے قدموں تک کس طرح پہنچ سکتا ہوں تُواپنے فضل سے ایسے سامان پیدافرماکہ میری ان سے ملاقات ہوجائے۔میں سمجھتاہوں اس سمن کے بہانے اللہ تعالیٰ آپ کو محض میرے لئے یہا ںلایا ہے۔ابھی وہ یہ باتیں کرہی رہے تھے کہ باہر سے آواز آئی۔بارش ہورہی ہے اگراجازت ہوتواندرآجائو ں۔انہوں نے دروازہ کھولا اورایک شخص اندرآیا۔یہ سرکاری پیادہ تھا۔انہوں نے اس سے پوچھا آپ اس وقت کہاں جارہے ہیں۔و ہ کہنے لگا۔بادشاہ کی طرف سے مجھے حکم ملا ہے کہ فلاں بزرگ کے پاس جائو ں اوران سے کہوں کہ آپ کو بلانے میں غلطی ہوگئی ہے دراصل وہ کسی اَورکے نام سمن جاری ہوناچاہیے تھا مگرنام کی مشابہت کی وجہ سے وہ آپ کے نام جاری ہوگیا۔اس لئے آپ کے آنے کی ضرورت نہیں۔یہ بات سن کر وہ اپاہج مسکرایااور اس نے کہا۔دیکھا۔میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ محض میرے لئے یہاں لایا ہے۔سمن محض ایک ذریعہ تھا جس کی وجہ سے آپ میرے پاس پہنچے۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میںبیان فرمائی ہے کہ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْافِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا۔پھر وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْافِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا میں اس طرف بھی اشارہ کیاگیا ہے کہ صرف اسلام کو قبول کرلینا اورمنہ سے اپنے آپ کو مومن کہہ لیناکافی نہیں۔علم و عرفان اورقر ب الٰہی کے راستے صرف ایسے ہی لوگوں پر کھو لے