تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 478

اس وقت کبھی بچہ کو کوئی مرض ستاتاہے۔کبھی بھو ک لگتی ہے۔کبھی کوئی اورخطر ہ پیش آتاہے تووہ زور سے چلّاتاہے اورروتاہے تواس کی ماں دوڑ کر اس کے پاس آجاتی ہے۔یہ طریق خدا تعالیٰ نے جسم کو زندہ رکھنے کے لئے تجویز کیا ہے۔بعینہٖ ایسا ہی طریق روح کے زندہ رکھنے کے لئے اس نے تجویز کیاہے۔جب رو ح کمزورہو اور اس پر مردنی طاری ہونے لگے۔انسان سجدہ میں گرجاتاہے۔اوربچہ کی طرح خدا تعالیٰ کوروروکر پکار تاہے۔تب خدا تعالیٰ بھی اس کی طرف دوڑ کر آتاہے اوراس کی ضرورت کو پو راکرتاہے۔اس وقت میری تقریر میں جو ش پیداہوگیا اورآواز بلند ہوگئی اورمیں نے انگلی اٹھاکر اوراسے الٹاکر کےقالین پرمارا۔اورکہا۔یوں مصلیّٰ پر سررکھ کر جب روح کابچہ روتاہے اوروہاں اس کے آنسو گرتے ہیںتو اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اس کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے اس کے پاس آتا ہے جس طرح ماں بچہ کے پا س آجاتی ہے۔غرض رونااورآنسو ہی جسم کو بچاتے ہیں اوررونااور آنسو ہی روح کو بچاتے ہیں۔وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْافِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایاہے کہ جیسے ایک محبت کرنے والی ماں اپنے بچہ کی آواز پر دوڑتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے بندے کی محبت کا جواب محبت میں دینے کے لئے دوڑتاہے۔اوراگران محبت کے تعلقات میں کبھی کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو بندے کی طرف سے ہوتی ہے ورنہ خدا تعالیٰ ایک محبت کرنے والی ماں سے بھی بڑھ کر چاہتاہے کہ اپنے بندوں سے پیار کرے۔و ہ چاہتاہے کہ اپنے بندوں سے محبت کاسلوک کرے۔اورو ہ چاہتاہے کہ بندے کواپنی محبت بھری گو دمیں اٹھا کراسے تسلی دے لیکن انسان وہ انسان جو مصائب میں مبتلاہوتاہے وہ انسان جو آلام کے بو جھ تلے دباہوتاہے و ہ انسان جو ہروقت محتاج ہوتاہے کہ خدا تعالیٰ اس کی مدد کرے اوراسے ان مصائب و آلام سے نجات بخشے اوروہ انسان جو ہروقت محتاج ہوتاہے اس بات کا کہ کوئی اس کاسہار ا بنے اوراسے تسلی دے وہ محتاج اورکمزور انسان مستغنی بنارہتاہے مگروہ مستغنی خداعر ش پر بے تاب رہتاہے اس بات کے لئے کہ اس کابندہ اس کی طرف آئے اور وہ اسے اپنے قرب میں جگہ دے۔پھر اس آیت میں دعائوں کی قبولیت کی طرف بھی اشارہ کیاگیا ہے اورکہاگیاہے کہ جو لوگ ہم میں ہوکر اورہم سے مدد مانگتے او ردعائیں کرتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ہم ان کے مقاصدکے حصول کے دروازے ان پر کھو ل دیتے ہیں اورناممکن دکھائی دینے والی باتیں بھی ان کے لئے ممکن ہوجاتی ہیں۔ایک بزرگ کاواقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ ان کی طرف سرکاری سمن آیا جس میںیہ لکھاتھا کہ آپ پر بعض لوگوں کی طرف سے ایک الزام لگایاگیا ہے اس کی جواب دہی کے لئے آپ فوراً حکومت کے سامنے حاضر ہوں۔وہ یہ سن