تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 477
ہوئے کہتا ہوں کہ دیکھوبدھ مذہب نے صرف یہ بتایاہے کہ خدا تعالیٰ سے اتصال پیداہو سکتا ہے۔مگراتصال پیدا کرنے کاطریق ا س نے نہیں بتایا۔اورجو بتایاہے وہ اتنا لمباہے کہ انسان کے لئے اس پر عمل ممکن نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بد ھ ساٹھ سال تک اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے ایک جنگل میں بانس کے درخت کے نیچے بیٹھااورخدا تعالیٰ کی عبادت اورذکرالٰہی میں اتنامحوہواکہ اس کے نیچے سے ایک درخت نکلا جواس کے جسم کو چیرتا ہواسرسے نکل گیا۔اوراسے پتہ تک نہ لگا۔اب یہ ایک لایعنی سی بات ہے۔جسے عقل قبول نہیں کرسکتی۔لیکن اسلام نے نہ صرف وصال الٰہی کاتصور بیان کیاہے بلکہ وہ راستہ بھی بتایاہے جس پر چل کرانسان خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتاہے۔مثلاً بدھ مذہب نے دعاکی قبولیت پر کوئی زور نہیں دیا۔صرف نروانا پرزور دیا ہے۔یعنی اس نے کہا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کی تمام خواہشات کو نکال دے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے قرب کی خواہش بھی تو ایک خواہش ہی ہے اگروہ سب خواہشات کونکالے گا تویہ خواہش کیسے باقی رہ سکتی ہے۔پس بد ھ نے متضاد بات کہی ہے۔لیکن اسلام کہتاہے کہ خدا تعالیٰ کے وصال کے لئے کسی لمبے چوڑے مجاہدے کی ضرور ت نہیں۔اگرکسی شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیداہوجائے اوروہ ہمہ تن التجاء بن کر دعاکرے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے قرب سے نوازے اوراس کے لئے اپنی برکتوں کے دروازے کھو لے تواللہ تعالیٰ اسے اپنا قرب عطاکردیتاہے۔چنانچہ و ہ فرماتا ہے کہ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَادَعَانِ(البقرۃ :۱۸۷)جب کوئی پکارنے والامجھے پکارے تومیں اس کی دعاکو ضرورقبول کرتاہوں۔اب کجایہ طریق کہ بدھ بانس کے درخت کے نیچے ساٹھ سال بیٹھارہا۔یہاں تک کہ اس کے نیچے سے ایک درخت نکلاجواس کے سرکے پار ہوگیا۔اورکجا یہ آسان طریق کہ اللہ تعالیٰ سے دعاکی اور وہ جھٹ مل گیا۔غرض اسلام میں اللہ تعالیٰ نے وصال الٰہی کاراستہ ایساآسان کردیاہے کہ اگرمومن کے دل میں ذرابھی محبت ہوتو وہ اللہ تعالیٰ کوپاسکتاہے۔اسی طرح میں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ میں لکھنئو میں ہوں اور کچھ رؤسا ء شہر مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہیں اورایک کمرہ میں جس میں قالینوں کافرش بچھاہواتھا بیٹھ گئے۔اس وقت ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا کہ روح کے زندہ رکھنے کی کیاصورت ہے۔میں نے انہیں جواب میں کہا کہ زندہ رہنے والی دوچیزیں ہوتی ہیں۔جسم اورروح۔جب بچہ پیدا ہوتاہے تو نہ بول سکتاہے نہ چل سکتاہے نہ خود کوئی کام کرسکتاہے۔اسے زندہ رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کیاسامان پیدا کیاہے؟ یہی کہ اس کے اندر رونے کی طاقت پیداکردی ہے۔اس کی ماں ہروقت تواس کے پاس نہیں رہتی۔کبھی کھاناپکارہی ہوتی ہے کبھی کپڑے دھو رہی ہوتی ہے کبھی برتن مانجھ رہی ہوتی ہے۔کبھی اپنی سہیلیوں سے باتوں میں مشغول ہوتی ہے اور کبھی اپنے خاوند سے چونچلے کررہی ہوتی ہے۔