تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 476

کاانکشاف فرمادے گا۔میں نے دیکھا ہے ہرسال کبھی کم اور کبھی زیادہ لیکن بہرحال اوسطاً آٹھ دس ایسے غیراحمدیوں کی چٹھیاں مجھے ضرو رآجاتی ہیں جولکھتے ہیں کہ ہم پہلے احمدیت کے شدید مخالف تھے مگراللہ تعالیٰ نے رؤیاکے ذریعہ ہمیں بتایاکہ احمدیت سچی ہے۔اس لئے ہم توبہ کرتے ہوئے احمدیت میں داخل ہوتے ہیں۔پس جو شخص بھی سچے طور پر اللہ تعالیٰ کی طر ف رجوع کرے۔اللہ تعالیٰ اس کی ہدایت کے سامان پیدافرما دیتاہے۔مگرشرط یہی ہے کہ اس میں سنجید گی پائی جائے اوراس کااصل مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کاحصول ہو۔اوراگرو ہ ایساکرے تو خدا تعالیٰ کسی نہ کسی رنگ میں اس کے لئے ہدایت کا راستہ ضرو رکھول دیتاہے۔پھر اس آیت میں مومنوں کو بھی یہ عظیم الشان بشارت دی گئی ہے کہ اگر وہ سچے دل سے کوشش کرتےر ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کاقرب حاصل ہوتواللہ تعالیٰ ان کو اپنے قرب کے غیر متناہی راستوں پر چلاتاچلاجائے گا۔اوران کے دامن کو گوہرِ مقصود سے بھردے گا اور انہیں اپنے الہام او رکلام سے مشرف فرمائے گا۔اسی امر کی طرف میری ایک رؤیا بھی اشار ہ کرتی ہے۔جوکچھ عرصہ ہوامیں نے دیکھی۔میں نے رؤیامیںدیکھا کہ ایک جگہ بہت سے لوگ بیٹھے ہیں اورمیں انہیں مخاطب کرکے کہتا ہوں کہ مختلف مذاہب میں جواللہ تعالیٰ کاتصورپایا جاتا ہے۔وہ میں تمہارے سامنے بیان کرتاہوں۔چنانچہ پہلے میں نے بدھ مذہب میں جوخدا تعالیٰ کاتصور پایا جاتا ہے وہ ان کے سامنے بیان کیا اور اس پر ایک تقریر کی۔صبح کے وقت جب میں نے اس رؤیا پر غور کیا تو مجھے معلوم ہواکہ خدا تعالیٰ کے تصور کے الفاظ اختصاراً بولے گئے ہیں۔ورنہ اس سے مراد خدا تعالیٰ سے ملنے کاتصور تھا چنانچہ میں نے ان کے سامنے جوتقریرکی وہ یہ تھی کہ دیکھو مچھلی پانی میں رہتی ہے لیکن اس پانی پر جوسورج کی شعاعیں گرتی ہیں یادریامیں بہنے والی ریت کے ذرات سے جو چمک پیداہوتی ہے وہ آہستہ آہستہ مچھلی پر ایسااثرڈالتی ہے کہ اس پرچانے پڑ جاتے ہیں۔درحقیقت یہ چانے اس لئے ہوتے ہیں کہ دیر تک اس پر ریت کی چمک اور سورج کی شعاعوں کااثرہوتارہتاہے اورآخر اس کے جسم پر بھی ویسی ہی چمک آجاتی ہے۔اگرسنہری ریت ہوتویہ چانے سنہر ی بن جاتے ہیں۔چنانچہ کئی مچھلیوں پر میں نے خود سنہری رنگ کے چانے دیکھے ہیں بلکہ بعض دفعہ ان پر سات سات آٹھ آٹھ رنگ کے چانے ہوتے ہیں اوربعض دفعہ تو ایسے نیلے رنگ کاچانہ ہوتاہے کہ یوں معلوم ہوتاہے کہ فیروزہ رکھا ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ دیکھو جسم جوایک کثیف چیز ہے اگراس اتصا ل کے نتیجہ میں دوسری چیزوںکااثر قبول کرلیتا ہے توروح جو ایک نہایت ہی لطیف چیز ہے وہ کیوں اثر قبول نہیں کرے گی۔پھر میں دوسرے مذاہب پراسلام کی فضیلت بیان کرتے