تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 44

واقعہ پیش کیا گیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام نے مدین سے مصر آتے وقت ایک آگ دیکھی اور اپنے رشتہ داروں سے کہا۔کہ میں اس آگ کی طرف جاتاہوں۔اوریاتومیں اس آگ کے پا س سے کو ئی خبر لائوں گا۔یاتمہارے لئے کو ئی ایساانگارہ لائوں گاجس سے تم آگ سینک سکو۔قبس کا لفظ اس جگہ شھاب کا بدل ہے یعنی شھابسے میری مراد قبس ہے۔اور چونکہ یہاں نارًا کالفظ استعمال کیاگیاہے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ ایک روحانی نظارہ تھا جسمانی نظارہ نہیں تھا۔مادی آنکھ سے دیکھنے والا کبھی یہ نہیں کہاکرتا کہ میں نے ’’ ایک آگ‘‘ دیکھی ہے۔بلکہ وہ یہ کہا کرتاہے کہ میں نے آگ دیکھی ہے۔اسی طر ح مادی آگ صرف ایک شخص کو نظر نہیں آتی بلکہ سب لوگوں کو نظر آتی ہے۔مگریہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں کہ وہ مجھے نظر آتی ہے۔جس میں یہ اشا ر ہ پا یا جاتاہے کہ وہ آگ آپ کے باقی ساتھیوں کو نظر نہیں آئی تھی۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے کشفی طور پر ایک آگ کا نظارہ دیکھا ہے او رمیں سمجھتاہوں کہ اس نظارہ کے دکھانے سے خدا تعالیٰ کامنشاء یہ ہے کہ میں اس آگ تک جائوں۔سومیں اس آگ تک جائوں گا۔اور چونکہ وہ آگ ایک کشفی نظارہ تھا۔اورکشفی طورپر آگ دیکھنے سے مراد ہدایت ہوتی ہے اورہدایت یادیکھنے والے کے لئے مخصوص ہوتی ہے یاساری قوم کے لئے عام ہوتی ہے اورابھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ پتہ نہیں تھا کہ جو انکشاف مجھ پر ہونے والا ہے وہ میرے لئے مخصوص ہے یا میرے خاندان اورقوم کے لئے عام ہے اس لئے انہوں نے اپنے اہل سے کہا۔کہ اگر وہ ہدایت صرف میرے لئے مخصوص ہوئی تومیں ا س کی خبر تمہیں آکرسنائوں گا۔اوراگر وہ ہدایت ایسی ہوئی کہ مجھے دوسروں تک بھی پہنچانے کاحکم ہواتو میں اس میں سے کوئی انگارہ تمہارے سینکنے کے لئے بھی لے آئوں گا۔یعنی کچھ تعلیم اس میں سے تم کو بھی سنائوں گا تاکہ تم اس سے روحانی سردی دور کرو۔اس جگہ جو قبس وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں یہ بھی حقیقی آگ پردلالت نہیں کرتے۔کیونکہ جب کسی چیز کو کسی اور چیز سے تشبیہہ دی جاتی ہے تو اس کی صفات کو بھی اس کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے۔جیسے کسی کو شیر کہیں تویہ نہیں کہیں گے کہ وہ شیر کی طرح تقریر کرتاہے۔بلکہ یہ کہیں گے کہ وہ شیر کی طرح چنگھاڑتاہے۔پس چونکہ اس جگہ جلوئہ الٰہی کانام آگ رکھا گیاتھا اس لئے آگے اس کے آثار وغیرہ کا نام بھی انگارہ رکھا گیا۔پس اس جگہ آگ اور انگارے سے مراد و ہ نور الٰہی ہے جو انہوں نے دیکھاتھا۔اور چونکہ اب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کامل وحی نہیں ہوئی تھی وہ یہ نہیں سمجھ سکتے تھے کہ آیا جو نور ان کونظر آیا ہے صرف ان کی ذات کے لئے ہے یاباقی خاندا ن اورقوم کے لئے بھی ہے۔یعنی یہ جلوہ جو دکھائی دیا ہے یہ جلوئہ نبوت ہے یاجلوئہ ولایت۔اس لئے انہوں نے کہا کہ