تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 466
حوادث اور واقعات پیش آجاتے ہیں جن کے نتیجہ میں انہیں خدا تعالیٰ کی طر ف توجہ کرنی پڑتی ہے۔مگربدقسمت انسان جب مشکلات سے نجات پاجاتاہے تووہ پھر خدا تعالیٰ کوبھول جاتاہے اور یہ چکر اسی طرح چلتاچلاجاتاہے۔درحقیقت اگرہم غورسے کام لیں توانسان پر دنیامیں کبھی توایسی حالت آتی ہے کہ وہ اپنی ساری ضرورتیں خود پوری کرلیتا ہے۔اس وقت اس کی توجہ اپنی طاقت اورقوت کی طرف جاتی ہے اوروہ اپنی کوشش پر گھمنڈ کرتاہے۔لیکن کبھی ایساہوتاہے کہ وہ خود اپنی ضرور ت کو پورا نہیں کرسکتا اوراپنی مدد کے لئے اپنے عزیزوں دوستوں اور رشتہ داروں کا محتاج ہوتاہے اس وقت اس کے ذہن میں خیال آتاہے کہ رشتہ داری بھی اچھی چیز ہے۔پھرایک وقت اس کے اہل و عیال اورمتعلقین بھی اس کے کام نہیںآسکتے اوراس کے ملنے والے اوردوست اس کی مددکرسکتے ہیں۔ایسے وقت اس کی نظر اپنے دوستوں پر پڑتی ہے اورو ہ سمجھتاہے کہ دوست احباب بھی دنیا میں مفید ہوتے ہیں جوآڑے وقت کام آتے ہیں۔پھر کبھی ایسازمانہ اس پر آتاہے کہ دوست بھی اس کاساتھ نہیں دے سکتے ایسے اوقات میں وہ بعض دفعہ بعض نظاموں کی طرف توجہ کرتا ہے اوروہ سلسلہ یاجماعت جس سے وہ تعلق رکھتاہے اس کی مددکرتی ہے۔اس طرح جب اس کاکام بن جاتاہے۔تو اس کے دل میں خیال آتاہے کہ نظام سے تعلق اچھی بات ہے اور سلسلہ یاجماعت سے اس کی وابستگی بڑھ جاتی ہے۔پھر کوئی وقت ایسابھی آتاہے کہ اس کے اہل و عیال رشتہ دار۔دوست احباب کوئی بھی اس کی مددنہیں کرسکتے بلکہ نظام بھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا اس وقت حکومت جس کے ساتھ وہ تعلق رکھتاہے اس کی مدد کرتی ہے۔تب وہ محسوس کرتاہے کہ حکومت بھی اچھی چیز ہے۔پھر کوئی وقت ایسابھی آتاہے کہ حکومت بھی انسان کاساتھ نہیں دے سکتی۔ایسے وقت میں عام انسانی ہمدردی اس کے کام آتی ہے تب اس کی نظر تمام دنیا پر پڑتی ہے اوروہ سوچتاہے کہ خدا تعالیٰ نے انسانوں میں کیساعجیب رشتہ قائم کیا ہے۔لیکن ایک وقت ایسابھی آتاہے کہ اس کے اہل و عیال۔دوست احباب۔قوم یانظام بلکہ حکومت اورانسانی ہمدردی کی مددسے بھی اسے کامیابی ناممکن نظر آتی ہے۔ایسی صور ت میں کامیاب ہونے پر وہ سمجھتاہے۔میری کامیابی میں کچھ حصہ غیبی امداد کابھی ہے اورجس حدتک اسے غیبی امداد کایقین ہوتاہے وہ خیال کرتاہے کہ یہ کام خدا تعالیٰ نے کردیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کام اس نے خود کیا۔رشتہ داروں اوردوستوں نے کیا۔نظام نے کیا۔قوم یاحکومت نے کیا یاعام انسانی ہمدردی نے کیا وہ بھی سب خدا تعالیٰ نے ہی کیاتھا۔لیکن ان میں چونکہ ظاہر ی ذرائع موجودتھے خدا تعالیٰ کی طرف اس کی نظر نہیں اٹھی تھی۔لیکن جب اسے کچھ غیبی امدادکاخیال ہوا۔اس وقت اسے خدا تعالیٰ کاخیال آیا۔بہرحال انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتاہے جب تمام انسانی تدابیر اس کے لئے باطل ہوجاتی