تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 43

نہ غلطی کرے نہ اس کا سنایاہواکلام مخاطب کو بھولے اور نہ وہ اس میں کو ئی غلطی کرے تودونوں کلاموںکو ایک سادرجہ حاصل ہوگیا۔پس اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ والی آیت سورئہ شعراء کی اس آیت کے خلاف نہیں کہ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنِ عَلیٰ قَلْبِکَ بلکہ وہ اس کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔اس آیت میں درحقیقت عیسائیوں کے اس اعتراض کا جواب دیاگیاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تو خدا تعالیٰ بالمشافہہ کلام کرتاتھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جبریل نازل ہوتاتھا۔اس جگہ بتایاگیاہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی خدا تعالیٰ بالمشافہہ گفتگو کرتاتھا۔روح الامین کے واسطہ بننے کا ذکر بطور تمثیل کے کیاگیاہے۔ورنہ آپؐ سے بالمشافہہ کلام ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّيْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِيْكُمْ مِّنْهَا (یادکرو)جب موسیٰ نے اپنے اہل سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔میں یقیناً تمہارے پاس ا س بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِيْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ۰۰۷ (آگ )سے کوئی (عظیم الشان)خبرلائوں گا۔یاتمہارے پاس ایک چمکتاہواانگارہ لائوں گا۔تاکہ تم آگ سینکو۔حل لغات۔اٰنَسْتُ۔اٰنَسْتُ اٰنَسَ سے واحد متکلم کاصیغہ ہے اوراٰنَسَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں اَبْصَرَہٗ۔اس کودیکھا۔اٰنَسَ الصَّوْتَ:سَمِعَہٗ وَاَحَسَّ بِہٖ۔اگر اٰنَسَ الصَّوْت کافقرہ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے آواز کوسنا او رمحسوس کیا۔(اقرب)پس اٰنَسْتُ کے معنے ہوں گے۔میں نے دیکھا۔شِھَابٌ۔اَلشِّھَابُ کے معنے ہیں شُعْلَۃٌ مِّنْ نَارٍ سَاطِعَۃٌ۔آگ کا شعلہ جو اوپر کو اٹھ رہا ہو۔کُلُّ مُضِیءٌ مُّتَوَلِّدٌ مِّنْ نَارٍ۔آگ سے پیدا ہونے والی روشنی۔(اقرب) قَبَسٍ۔اَلْقَبَسُ کے معنے ہیں شُعْلَۃُ نَارٍ تُؤْخَذُ مِنْ مُّعْظَمِ النَّارِ۔آگ کاشعلہ جو بڑی آگ سے لیاجائے۔(اقرب) تَصْطَلُوْنَ۔تَصْطَلُوْنَ اِصْطَلٰی سے فعل مضارع جمع مذکر مخاطب کا صیغہ ہے اوراِصْطَلٰی بِالنَّارِ اِصْطِلَاءًکے معنے ہیں اِسْتَدْفَأَ بِھَا آگ تاپی اور اس سے گرمی حاصل کی۔(اقرب) تفسیر۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے لطیف اور سمیع ہونے کی دلیل کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا