تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 465
کافر دنیا کو ہی اصل چیز سمجھتے ہیں۔اس لئے اگرانہیں کروڑوں مل جائیں تووہ سرتاپادنیا کے کیڑے بن جاتے ہیں اوراگرمال و دولت چھینی جائے توان پر موت آجاتی ہے اوروہ اللہ تعالیٰ کے متعلق شکوہ وشکایت کاباب کھو ل دیتے ہیں۔گویاوہ کسی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا ء پر مطمئن نہیں ہوتے اگرانہیں اموال اورجائدادیں مل جائیں توبجائے اس کے کہ ان کی خدا تعالیٰ کی طرف نظر اٹھے وہ انہیں اپنی لیاقت اورقابلیت کانتیجہ قرار دے دیتے ہیںاوراگران سے مال چھن جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق شکوہ و شکایت کرنے اور اسے (نعوذ باللہ)ظالم قرار دینے لگ جاتے ہیں۔غرض کافر کسی حالت میں بھی مطمئن نہیں ہوتا اورمومن کو ہرحالت میں اطمینان قلب نصیب ہوتااوروہ رضاء بالقضاء کا نمونہ ہوتاہے۔اوپرچونکہ کفارکو مخاطب کیاگیاتھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میںپھر انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگرتم سمجھتے کہ دنیادارِ آخرت کی تیاری کے لئے رکھی گئی ہے اوراس کی حیثیت لہواورلعب کی سی ہے توتم دنیا پر لات مار کر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرلیتے اور سمجھتے کہ مادی ترقیات روحانی ترقیات کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔مگرتم نے تودارآخرت پر دنیوی زندگی کوترجیح دے دی اورچند کھوٹے پیسوں کے لئے آسمانی دولت کوردّکردیا۔فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ١ۚ۬ اورجب وہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تواپنی عقیدت کو خالصۃً اللہ(تعالیٰ ) کے لئے کرکے اس سے دعامانگتے فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَۙ۰۰۶۶لِيَكْفُرُوْا بِمَاۤ ہیں۔مگرجب وہ ان کوخشکی کی طرف نجات دے کرپہنچادیتاہے تواچانک پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔تاکہ ہم اٰتَيْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِيَتَمَتَّعُوْا۠١ٙ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ۰۰۶۷ نے جوکچھ انہیں دیا ہے اس کاانکار کردیں( اوراس انعام کو خداکے سوادوسرے شریکوں کی طرف منسوب کردیں ) اوراس (عارضی توبہ)کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ (اللہ تعالیٰ ان کوچھوڑ دیتاہے اور)وہ ایک عرصہ تک دنیوی سامانوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔پس( ایک دن یہ بخشش ختم ہوجائے گی اور)وہ(اپنی حقیقی جزاکو)دیکھ لیں گے۔تفسیر۔اس میں بتایاکہ لوگ دنیا سے اپنا دل تولگاتے ہیں۔لیکن انہیں اپنی زندگیوں میں ہی ایسے کئی