تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 464
ہم نے تواس دنیا کو آخرت کے لئے ایک سیڑھی کے طور پر بنایاتھا اورچاہاتھاکہ تم اس دنیاکااتناہی مقام سمجھو۔جتناایک طالم علم کھیل کا مقام سمجھتاہے۔مگرتم نے اپنی نادانی سے دنیا کو ہی اپنا منتہٰی سمجھ لیااوراسی کے لئے تم نے اپنی تمام مساعی وقف کردیں۔حالانکہ وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ اصل زندگی تو دارِ آخرت کی زندگی ہی ہے۔اس جگہ حَیَوَان کالفظ حَیٰوۃ کے مبالغہ کے طور پر استعمال ہواہے۔جیسے کہتے ہیں زَیْدٌ عَدْلٌ یعنی زید کاانصاف کے ساتھ اتنا گہراتعلق ہے کہ اگریہ کہا جائے کہ زید ہی مجسّم انصاف ہے تو یہ بالکل جائز ہوگا۔اسی طرح فرمایاکہ گواس جہان میں بھی تمہیں ایک زندگی حاصل ہے لیکن چونکہ انسان حقیقی طور پر دارآخرت میں ہی زندہ ہوگا اوراصل زندگی وہی ہے جواگلے جہان میں حاصل ہوگی۔اس لئے اگرہم یہ کہیں کہ دارآخرت ہی حقیقی زندگی ہے تویہ بالکل جائز ہے۔بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس جگہ محض الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ کی تنقیص کی گئی ہے۔مگریہ درست نہیں۔وہ زندگی جو خودخدا تعالیٰ نے پیداکی ہے۔اورجوتمام انبیاء ؑ اوراولیاءؒاورصلحاء ؒ کوحاصل ہوتی ہے وہ بیہودہ اورفضول کس طرح ہوسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ توبار بار فرماتا ہے کہ کیاتم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار پیداکردیاہے اور تم ہمارے پاس نہیں آئو گے۔اسی طرح وہ زمین و آسمان کی پیدائش کوبھی بڑی حکمتوں پر مبنی قراردیتاہے۔پھرانسانی زندگی جواسی پیدائش کاایک حصہ ہے بے کار کس طرح ہوگئی۔اگریہ زندگی بے کار ہوتی تواللہ تعالیٰ بار بار اپنے احسانات کیوں گنواتا۔اورکیوں فرماتاکہ اَمَّابِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ۔اپنے رب کی نعمتوںکویاد کرو اوران کاشکر اداکرو۔پس وَ مَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ فرماکر اللہ تعالیٰ نے دنیوی زندگی کی مذمت نہیں کی بلکہ اسے اُخروی حیات کاایک ضروری حصہ اوراس کاابتدائی زینہ قرار دیاہے جس پر قدم رکھے بغیر اخروی حیات کی صلاحیتیں انسانی روح میں پیدا نہیں ہوتیں۔اس دنیوی زندگی کو لہوو لعب قراردےکر اللہ تعالیٰ نے مومنوںکو توکل کابھی شاندار سبق دیاہے اوربتایاہے کہ یہ دنیااوراس کے سامان درحقیقت ایک کھیل کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔جس طرح کھیل میں خواہ بادشاہ بن جائو یافقیر دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔نہ بادشاہ بن کر انسان متکبر ہو جاتا ہے نہ فقیر بن کررونے لگتاہے اس طرح مومن سمجھتاہے کہ میری اصل زندگی تو میرے خداکے پا س اگلے جہا ن میں ہے۔یہ دنیوی زندگی تومحض ایک کھیل ہے اورجب اس کایہ نقطہ ء نگاہ ہو جاتا ہے توپھر اگراسے کروڑوں روپے بھی مل جائیں تومال کی ناجائز محبت اس کے دل میں پیدا نہیں ہوتی اوراگراسے فاقے بھی کرنے پڑیں تب بھی اسے خدا تعالیٰ کے متعلق کوئی شکوہ پیدا نہیں ہوتا۔اس کے بالمقابل چونکہ