تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 463
توجہ دلائی گئی ہے کہ اگرتم سوچواورغورسے کام لو توتمہیں معلوم ہوکہ یہ دنیالھواورلعب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔یعنی دنیوی کاموں کی اگرتقسیم کی جائے توان کاایک حصہ تو لھو قرا ر پائے گا اوردوسرالعب۔لھو سے مراد ایسی چیزیں ہیں جو غفلت پیداکرنے والی ہیں۔اورلعب سے مراد ایسی چیز یں ہیں جواپنے اندرکھیل کودکارنگ رکھتی ہیں۔اوردرحقیقت انسانی زندگی انہی دوچیزوں کے مجموعے کانام ہے۔یعنی زندگی حرکت اورسکون کے ایک دور کانام ہے جویکے بعد دیگرے آتاچلاجاتاہے۔اوریہ دونوں چیزیں جسمانی قوتوںکو برقراررکھنے کے لئے ضرور ی ہیں۔گویالعب حرکت کاوہ زمانہ ہے جس میں انسان مختلف طریق پر اپنی قوتوںکوبروئے کارلاتاہے۔اورلھو انسان کی وہ حالت ہے جس میں وہ آرام او رسکون حاصل کرنے کاخواہشمند ہوتاہے۔یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن کاہرانسان محتاج ہے خواہ وہ روحانیت کے بڑے سے بڑے مقام پر بھی کیوں نہ پہنچاہواہو۔کیونکہ انسانی زندگی اگرایک طرف حرکت کے ساتھ قائم ہے خواہ یہ حرکت سیر کے ذریعہ سے ہو یاچلنے پھر نے کے ذریعہ سے یادنیوی مشاغل اورکاروبار میں حصہ لینے سے تودوسری طرف کوئی انسان نہیں جوآرام اورسکون کا محتاج نہ ہو۔اگرنیند کے ذریعہ سے دماغی اوراعصابی سکون حاصل نہ ہو یاخوشگوارمناظر اور خوشگوار آب و ہوااس کےلئے سکون اورلذت کاموجب نہ ہوں تووہ اپنی زندگی کو کسی صورت میں بھی برقرار نہیں رکھ سکتا۔غرض لہواورلعب کے ساتھ ہی یہ دنیوی زندگی قائم ہے اگران دونوں کوانسانی زندگی میں سے نکال دو تو ساتھ ہی زندگی بھی ختم ہوجاتی ہے۔مگرفرمایاکہ اس لہواورلعب کااصل مقصد یہ ہے کہ تم ا س کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کی کوشش کرو۔گویایوں سمجھ لوکہ تمہارے مقصد حیات کے مقابلہ میں جواُخروی زندگی ہے اس دنیاکا مقام صر ف لہو اورلعب کاساہے جس طرح ایک طالب علم کے لئے کھیل کود ضروری ہے اسی طرح تمہارے لئے بھی دنیوی مشاغل ضروری ہیں۔کیونکہ اسلام بدھ مذہب کی طرح اپنے پیروئوں کو یہ نہیں کہتاکہ دنیا چھوڑ دواوررات دن کسی جنگل میں بیٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے رہو بلکہ وہ لھو اورلعب کو بھی ضروری قرار دیتاہے کیونکہ اگرہروقت آخرت کاخوف ہی انسان کے ساتھ رہے توو ہ ہلاک ہوجائے۔مگرلھو اورلعب میں ہروقت مستغرق رہنا بھی انسان کے اصل مقصدکوتباہ کردیتاہے جس طرح کھیل تو ایک طالب علم کے لئے ضروری ہے لیکن اگروہ ہروقت کھیل کود میں مشغو ل رہے تو و ہ اپنی تعلیم کونقصان پہنچائے گااورکوئی بھی اس کے اس فعل کو مستحسن قرار نہیں دے گا۔اسی طرح اسلام دنیوی لذات سے متمتع ہونے کی اجازت تودیتاہے۔مگروہ یہ پسند نہیں کرتاکہ انسان دنیا میں ہی مشغول ہوجائے اورآخرت کو نظرانداز کردے۔پس وَمَاھٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآاِلَّالَھْوٌوَّ لَعِبٌ فرماکراللہ تعالیٰ نے منکرین اسلام کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ