تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 42
چنانچہ فرماتا ہے کہ باوجود اس کے کہ انہیں اپنے برے اعمال میں لذت آرہی ہے اوروہ انہیں اچھا سمجھ رہے ہیں پھر بھی یہ ان اعمال کے بدنتائج سے محفوظ نہیں رہ سکتے بلکہ انہیں دنیا میں بھی اپنے برے اعمال کی وجہ سے رسواہونا پڑے گا۔او راُخر وی زندگی میں بھی وہ سب سے زیادہ نقصان اٹھانےوالے ہوں گے۔وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ۰۰۷ اورتجھ کو یقیناً قرآن اس (ہستی) کی طرف سے مل رہاہے جو بہت حکمت والی (اور )بہت جاننے والی ہے۔حلّ لُغَات۔تَلَقّٰی تَلَقّٰی کے معنے براہ راست منہ درمنہ کلام سننے کے ہوتے ہیں۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے۔تَلَقّٰی الشَّیْءَ: اَخَذَہٗ مِنْ فِیْکَ مُشَافَھَۃٌ (اقرب)یعنی تَلَقّٰی الشَّیْءَ کے معنے براہ راست دوسرے کے منہ سے کلام سننے کے ہوتے ہیں۔تفسیر۔اب فرماتا ہے۔منکر بیشک انکار کرتے چلے جائیں۔گالیاںد ینے والے گالیاںد یتے رہیں اوربرابھلاکہنے والے برابھلاکہتے رہیں۔خدائے حکیم و علیم نے اپنی سکیم دنیا میں نافذ کردی ہے اوراب دنیا کی کوئی طاقت اسے پوراہونے سے روک نہیں سکتی۔اب حاسدوں کے لئے حسد کے انگاروں پر لوٹنے کے سواکوئی چار ہ نہیں۔وہ اپنے مونہہ کی پھونکوں سے نہ خدا تعالیٰ کے اس روشن کردہ چرا غ کوبجھا سکتے ہیں اورنہ تیروسنان سے اسلام کی ترقی اوراس کی عظمت کو روک سکتے ہیں۔کیونکہ یہ وہ تعلیم ہے جو حکیم و علیم خداتجھے بالمشافہ سکھا رہاہے۔اوریہ ناممکن ہے کہ ایک حکیم ہستی جو ساتھ ہی علیم بھی ہے اس کی تعلیم کو دنیا قبول نہ کرے یااس کی تعلیم کو مٹانے پر وہ قدرت پاسکے۔اس جگہ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوتاہے کہ پچھلی سورۃ میں تویہ فرمایاتھا کہ روح الامین تجھ پر کلام اتار تاہے اوریہاں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر براہ راست کلام ناز ل کرتاہے۔ان دونوں میں اختلاف کیوں ہے؟ سویاد رکھنا چاہیے کہ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ روح الامین سے مرادیہ ہے کہ جس صورت میں خدا تعالیٰ نے فرشتے کو کلام دیا تھا اسی صورت میں اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا اور نسیان یاغلطی کااس میں کوئی امکان باقی نہ رہا۔اورجو کلام غلطی اورنسیان سے پاک ہو اورلفظاً لفظاً او رحرفاً حرفاً اورحرکۃً حرکۃً اس شخص کو پہنچ جائے جس کو کلام بھیجا گیاتھا تووہ ایسا ہی ہوتاہے جیسا کہ بالمشافہہ بات کرنا۔کیونکہ بالمشافہہ بات کرنے میں یہی مدنظر ہوتاہے کہ کوئی غلطی نہ رہ جائے یاپیغامبر کچھ بھول نہ جائے۔جب پیغامبر کے متعلق بھی یہ احتیا ط کرلی گئی کہ نہ وہ کچھ بھولے