تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 455
سے ہرچیز کوزندہ کیا ہے۔پس ان آیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھَارُ کے یہ معنے ہو ںگے کہ انہیں پاک و صاف رکھنے اورہمیشہ کے لئے زندگی بخشنے کے سامان بڑی کثرت سے ملیں گے۔کیونکہ اس جگہ صرف پانی نہیں بلکہ نھر کالفظ استعمال ہواہے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن کریم میں جنت کی زندگی کی بھی دوہی بڑی خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔اول دائمی زندگی جوانسانوں کو بھی عطاہو گی۔باغوں کو بھی عطاہوگی اور غُرَف کو بھی عطاہوگی۔انسانوں کی دائمی حیات کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خَالِدِیْنَ فِیْھَااَبَدًا (النساء : ۱۲۳)اورجنتی باغوں کے دوام کے متعلق فرماتا ہے کہ جَنّٰتُ عَدْنٍ (الرعد: ۲۴) اسی طر ح فرماتا ہے۔اُکُلُھَادَآئِمٌ وَّظِلُّھَا(الرعد : ۳۶)اور غُرَف کے دائمی ہونے کی طرف سورۃ زمر کی اس آیت میں اشارہ کیاگیاہے کہ لٰكِنِ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ١ۙ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِيْعَادَ(الزمر : ۲۱) یعنی وہ لوگ جو اپنے رب کاتقویٰ اختیار کرتے ہیں انکو کئی منزل والے مکان عطاہوں گے جن کے اوپر اور منزلیں مضبوطی کے ساتھ بنی ہوں گی۔ان کے نیچے نہریں بہتی ہوںگی یہ اللہ تعالیٰ کاایک پختہ عہد ہے اوراللہ تعالیٰ اپنے وعدوںکوتوڑانہیںکرتا۔اس جگہ مَبْنِیَّۃٌ کے معنے ہمیشہ رہنے والے کے بھی ہوسکتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں اس کی جڑیں گاڑ دی گئی ہیں۔ورنہ یوں توہرغُرفہ کی ہی بنیاد ہوتی ہے۔غرض تینوں چیزوں کوقرآن کریم نے قائم رہنے والابتایاہے۔نہ مکان ٹوٹیں گے نہ باغ اجڑیں گے نہ ساکن و منتفع مریں گے۔دوسری طرف ان تینوں چیزوں کی نسبت فرمایا کہ ان کے نیچے نہریں ہوں گی۔پس جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ کی آیت کے مطابق نہروں سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بکثرت ایسے سامان پیداکئے جائیںگے جن کی وجہ سے نہ باغ سوکھیں گے نہ مکان ٹوٹیں گے نہ آد می مریں گے۔پانی کی دوسری غرض جیسا کہ اوپر بتایاجاچکا ہے مَیل کچیل سے صاف رکھنا ہوتی ہے۔یہ خوبی بھی جنت میں پورے طو رپر پائی جائے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًا۔اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا( الواقعۃ :۲۶،۲۷)یعنی مومن جنتوں میں نہ توکوئی لغو بات سنیں گے اور نہ گناہ کی کوئی بات ان کے کانوں میں پڑے گی۔وہ صرف ایسی ہی باتیں سنیں گے جوسلامتی کی دعائوں پر مشتمل ہوں گی۔گویاہر روحانی گند اورمیل کچیل سے انہیں دو ررکھاجائے گا۔اسی طرح احادیث میں آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیا کہ انسان جنت میں کھائے پیئے گا توکیاپاخانہ پیشاب نہ ہوگا؟ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کھایاپیاصرف