تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 41

ٹلادیا۔اورادھر ادھر کی باتیں شروع کردیں تاکہ یہ بات اس کے ذہن سے نکل جائے۔جب کچھ دیر گذر گئی تومیں نے اس سے پوچھا کہ تم چوری کس طرح کرتے ہو؟اس نے کہا کہ اکیلا آدمی چوری نہیں کرسکتا بلکہ ہم پا نچ سات آدمی مل کرچوری کرتے ہیں۔ان میں سے ایک آدمی گھر کا راز دار ہوتاہے اوروہ عام طور پر سقّہ یا چوہڑہ وغیرہ ہوتاہے کیونکہ راز دار کے بغیر چوری نہیں ہوسکتی۔وہی کمروں او ردروازوں کے متعلق بتاتا ہے اور وہی اس بات کے متعلق اطلاع دیتاہے کہ نقدی اورزیورات کہاں ہیں۔اس کے بعد ایک ایسے آدمی کی ضرورت ہوتی ہے جسے سیندھ لگانی آتی ہواوروہ ایسے طور پر اوزاروںکواستعمال کرے کہ سیندھ لگانے کی آواز پیدانہ ہواوراس کی آوازسے گھر والے بیدارنہ ہوجائیں۔پھر ایک تیسراآدمی ایساہوناچاہیے جو تالے وغیرہ کھولنے میں مشاق ہو۔جب دوسراآدمی سیندھ لگالیتا ہے تو وہ ایک طرف ہو جاتا ہے اورپھر اس تیسرے آدمی کاکام شروع ہو جاتا ہے اوروہ صندوقوں کے تالے کھولتاجاتاہے اورپھرایک چوتھا آدمی ایساہوناچاہیے جو کہ ایسے طورپر چلنے میں مہارت رکھتاہوکہ اس کے پائوں کی آہٹ محسوس نہ ہو۔تیسراآدمی تالے کھول کر اورسامان نکال کر چوتھے آدمی کو دیتاجاتا ہے۔اوروہ باہروالوںکو پکڑاتا جاتاہے۔پھر ایک پانچویں آدمی کی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ گلی کے سرے پر کھڑارہے اوراگرکسی شخص کو آتا جاتادیکھے توسیٹی بجادے یا کوئی اوراشارہ کردے تاکہ سب ہوشیار ہوجائیں۔پھر چھٹا شخص ایساہوناچاہیے جو سفید کپڑے پہنے ہوئے ہو او رکسی کو اس کے چلنے پھرنے پر شک نہ گذرے۔کیونکہ ہم تو ننگ دھڑنگ ہوتے ہیں اورہمیں کوئی دیکھ لے تو یقیناً ہم پر چور ہونے کا شبہ کرے لیکن یہ آدمی ایسے کپڑوں میں پھر تاہے کہ کسی کو اس پر شک نہیں گذرسکتا۔ہم نقدی اورزیورات وغیرہ اس کے سپرد کردیتے ہیں۔وہ نہایت اطمینان سے مال لے کر چلا جا تاہے۔اورساتویں شخص کو جو سنار ہوتاہے دےدیتاہے۔جو سونے کو اورہیرے اورجواہرا ت کو لاکھ سے جداکرتاہے اور اسے پگھلا کرایک نئی شکل دےدیتاہے۔اوراس سونے کو آگے بیچتاہے اورپھر ہم سب آپس میں برابر تقسیم کرلیتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے اسے کہا کہ اگر تمہاری اتنی محنت کے بعد وہ سنا ر تمہارا سونا کھاجائے توپھر تم کیاکرو۔اس پر بے اختیار اس چور کے منہ سے نکلا کہ کیا وہ اتنا حرام خور ہو گا کہ دوسرے کا مال کھا جائے گا۔میں نے کہا۔بس اب تم سمجھ گئے ہو۔معلوم ہواکہ دوسروں کامال کھانا حرام ہے اور تمہاری فطرت بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے مگر چوری کی عادت نے تمہاری فطرت کو ایسا مسخ کردیا ہے کہ تم اس کام کو بھی حلال کی کمائی سمجھنے لگ گئے ہو۔مگرجہاں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جو شخص ایک لمبے عر صہ تک کسی فعل کا ارتکاب کرتارہتاہے وہ رفتہ رفتہ اسے خوبصورت نظر آنے لگتاہے وہاںاس کا ایک یہ بھی قانون ہے کہ کسی برے کام کا اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا۔