تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 443

پھرتے ہیں۔لیکن جب اسے کھودتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ مثلاً اس کے اندر چونے کی چٹانیں ہیں۔اگروہ چونے کی چٹانیں باہر نکال کرسطح پرپھیلادی جائیں تو کیاتم خیال کرسکتے ہو کہ یہاں آبادی ہوسکتی تھی۔یہ جگہ بجائے آدمیوں کے چٹانوں سے بھری ہوئی ہوتی۔اسی طرح وہ سب مطالب جو قرآنی الفاظ کی تہوں میں چھپے ہوئے ہیں اگرباہر نکال لئے جاتے اورظاہر ی الفاظ میں انہیں بیان کیاجاتا توجیسے اس زمین کی اندر کی چیز یں اگرباہر آجائیں تووہ چیز یں میں پھیل کر سینکڑوں میل کاعلاقہ رک جاتا۔اسی طرح قرآن کریم بھی اتنا پھیل جاتاکہ کوئی انسان اسے پڑھ نہ سکتا۔اوریہ کتاب نہ رہتی بلکہ ایک عظیم الشان لائبریری ہو جاتی اوراس میں ہزاروں کتب رکھی ہوئی ہوتیں۔ایک نسل انسانی کہہ دیتی کہ ہم نے اس کے پانچسوصفحات پڑھے ہیں۔دوسری کہتی ہم نے اس کے ایک ہزار صفحات پڑھے ہیں۔لیکن اب قرآن کریم ایک چھوٹی سی کتاب کی شکل میں ہے اورزمین کی طرح اس کی ایک تہ کے نیچے ایک مضمون ہے۔دوسری تہ کے نیچے دوسرامضمون ہے۔تیسری تہ کے نیچے تیسرامضمون ہے اوراس طرح تھوڑے سے الفاظ میں ہزاروں مضامین بیان کردیئے گئے ہیں۔حفظ کرنے والے اسے آسانی سے حفظ کرسکتے ہیں اورپڑھنے والے اسے جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے کہاہے کہ فِیْھَاکُتُبٌ قَیِّمَۃٌ یعنی اس کے اندر تمام ایسی تعلیمیں پائی جاتی ہیں جوقیامت تک کام آنے والی ہیں۔اورکوئی ایسی تعلیم جو دائمی ہو اس سے باہر نہیں رہی۔اسی شان او رعظمت کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم کاایک نام قرآن مجید بھی رکھااور دنیا میں یہ اعلان فرما دیا کہ وَلَوْاَنَّ مَافِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْ بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ مَانَفِدَتْ کَلِمَاتُاللہِ (لقمان :۲۸) یعنی زمین میں تمہیں جس قدردرخت دکھائی دیتے ہیں اگر ان تمام کو کاٹ کاٹ کر قلمیں بنالیا جائےاورسمندر سیاہی بنادیاجائے اورپھراَورسات سمندروں کاپانی بھی سیاہی بنادیاجائے اوران قلموں اورسیاہی سے اللہ تعالیٰ کے کلمات لکھے جائیں تو دنیا بھر کے درختوں اورباغات کے درختوںکی قلمیں ٹوٹ جائیں گی اور ساتوں سمندروں کی سیاہی ختم ہوجائے گی مگرقرآنی سمندر پھر بھی بھراہواہی دکھائی دے گا اوراس کے معارف کبھی ختم ہونے میں نہیں آئیں گے۔کیونکہ جس طرح خدامجید ہے اسی طرح یہ قرآن بھی مجید ہے۔(البروج) اوربڑی شان اور عظمت کا کلام ہے۔دنیا پر کوئی زمانہ ایسانہیں آسکتا۔جس میں قرآن مجید لوگوں کی راہنمائی کرنے سے قاصر ہو۔و ہ ہرزمانہ میں ایک نئی شان سے جلوہ گرہوتااورمخالفینِ اسلام کی آنکھوں کو اپنی چمک سے خیرہ کردیتاہے۔وہ تورات اورژندو اوستااوروید کی طرح ایک مردہ کتاب نہیں جوہرزمانہ کی مشکلات کا حل پیش کرنے سے قاصر ہو بلکہ وہ ایک زندہ کتاب ہے جس سے ہرزمانہ میں زندگی کاتازہ سامان لوگوں کو میسرآ سکتاہے