تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 442
ہی اس زمانہ کے لئے بھی کافی ہے اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس زمانہ کے لئے بھی رسول ہیں۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایاکہ قرآن کے سات بطن ہیں اس سے ضروری نہیں کہ یہی مراد ہو کہ سات ہی بطن ہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ د س،بیس، پچاس، سو،ہزار،دوہزار بطن ہوں۔کیونکہ عربی زبان میں سات کا عدد کثرت پر دلالت کرتاہے۔چنانچہ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ کے معنے یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسانی ترقیات کے لئے ہزاروں بلندیاں پیداکی ہیں۔غرض فرمایاکہ قرآن کریم کوہم نے ایسابنایاہے کہ یہ ہرزمانہ کے لئے کافی ہوگا۔اس میں ہرزمانہ کے خیالات پر بحث موجود ہوگی۔اگراس زمانہ کے لوگوں کے خیالات غلط ہوں گے توان کی تردید کی جائے گی اوراگرصحیح ہوں گے توتائید کی جائے گی۔درحقیقت قرآن کریم میں یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ جب وہ کوئی مضمون لیتا ہے تواس کے تمام متعلقہ مضامین کواس کے نیچے تہ بہ تہ جمع کر دیتاہے۔بالکل اسی طرح جس طرح زمین کے طبقات ہوتے ہیں۔اوپر کے طبقہ میں اورقسم کی مٹی ہوتی ہے۔دوسرے طبقہ میں اورقسم کی مٹی ہوتی ہے۔تیسرے طبقہ میں اورقسم کی مٹی ہوتی ہے۔اورجب ہم کسی زمین کودیکھتے ہیں تواندازہ لگاتے ہیں کہ یہ زمین اچھی پیداوار دینے والی ہے۔یابری پیداوار دینے والی ہے۔یہ کنکریلی زمین ہے یااس میں عمدہ لیسدار مٹی پائی جاتی ہے اوراس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس میں فصل اچھی ہوگی یاخراب ہوگی۔مکان اچھے تعمیر ہوں گے یاخراب ہوں گے۔بنیادیں گہری کھودنی پڑیں گی یا تھوڑی۔عمارت کئی منزلوں کی بن سکے گی یا یہ زمین زیادہ بوجھ برداشت نہیں کرسکے گی۔لیکن ایک ماہر فن اس زمین کوکھودے گاتو کہہ دے گاکہ اتنے گز زمین کھودنے کے بعد پتہ لگتاہے کہ اتنے ہزار سال پہلے اس جگہ پانی ہوتاتھا اوروہ اپنے اند ر فلاں قسم کے جانور اورحیوانات رکھتاتھا۔پھر وہ چندگز اورمٹی کھودے گا اوراس زمین سے جس کو سرسری طورپر دیکھ کرہم نے یہ اندازہ لگایاتھا کہ اس میں فصل زیادہ ہوگی یاکم۔عمارت کئی منزلوں والی بن سکے گی یا نہیں۔و ہ ماہر فن یہ نتیجہ نکالے گاکہ فلاں فلاں وقت میں اس زمین میں یہ یہ تبدیلیاں اندرونی آگ یا گرمی کی وجہ سے پیداہوئیں یادھاتوں نے پگھل پگھل کر اس کے اندریہ یہ تغیرات پیداکردیئے۔اسی طرح وہ نیچے چلتاچلاجائے گا اورتاریخ کے مختلف زمانے بیان کرتاچلاجائے گا۔وہ محض اس زمین کودیکھ کر دودوتین تین ہزار تک کے واقعات بیان کردے گااوریہ سب چیز یں زمین کے اندر مخفی ہوں گی۔یہی حال قرآن کریم کاہے۔اس کے مطالب بھی الفاظ کی تہوں کے نیچے چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔اگرزمین کی سب چیزوں کو باہر نکال کر پھیلادیاجائے توانسان کا زمین پر چلنا پھرنا مشکل ہوجائے گا۔لیکن چونکہ وہ سب چیزیں زمین کے اندر تہ بہ تہ رکھی ہوئی ہیں اس لئے ہم اس کے اوپرچلتے