تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 435
وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ اوراس (یعنی قرآن) کے نازل ہونے سے پہلے تُوکوئی کتاب نہ پڑھتاتھا۔نہ لوگوں کوسناتاتھا اورنہ اسے اپنے بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ۰۰۴۹بَلْ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ دائیں ہاتھ سے لکھتاتھا۔اگرایساہوتاتوجھٹلانے والے شبہ میں پڑ جاتے۔مگریہ (قرآن)توکھلی کھلی نشانیاں ہیں ان فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ۰۰۵۰ لوگوں کے دلوں میں جن کو علم دیاگیاہے اورہمارے نشانات کاظالموں کے سواکوئی انکار نہیں کرتا۔تفسیر۔اس آیت کے متعلق یہ امر یاد رکھناچاہیے۔کہ یہاں صرف تلاوت کی نفی مقصود نہیں بلکہ یَتْلُوْاصُحُفًامُّطَھَّرَۃً (سورۃالبَیَّنَہ آیت ۳)کی تشریح کی گئی ہے او رمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ آپ نہ توکوئی کتاب پڑھ سکتے تھے اورنہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھ سکتے تھے یعنی ظاہری علوم سے آپ قطعی طورپر ناواقف تھے۔اگرایسانہ ہوتاتو انکار کرنے والے شبہ میں پڑسکتے تھے کہ شاید دوسری کتابو ںسے اس نے علم حاصل کرلیا ہے۔مگراب تو ان کے لئے اس قسم کے شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔تلاوت درحقیقت دوطرح ہوتی ہے۔ایک کتاب کو دیکھ کر اور دوسرے کسی بات کودوہرانے سے خواہ وہ دوہرانے والانابینایااَن پڑھ ہی کیوں نہ ہو۔اگرایک اَن پڑھ آدمی جس نے قرآن کریم کاکچھ حصہ زبانی یاد کیاہواہو۔قرآن کریم پڑھے تووہ بھی تلاوت کہلاتی ہے۔اسی طرح اگر کوئی نابیناشخص قرآن کریم یاد کرلے اورپھر قرآن کریم پڑھے۔تب بھی یہی کہاجاتاہے کہ اس نے قرآن کریم کی تلاوت کی۔چنانچہ اما م الصلوٰ ۃ جوروزانہ نمازوں میں تلاوت کرتے ہیں۔وہ قرآن کریم کو دیکھ کرتلاوت نہیں کرتے۔بلکہ جو کچھ انہیں یاد ہوتاہے اسے پڑھ دیتے ہیں۔پس مِنْ کِتٰبٍ کہہ کر دونوں طرح کی تلاوت کی نفی کردی گئی ہے اس تلاوت کی بھی جو کتاب کو دیکھ کرکی جاتی ہے اوراس تلاوت کی بھی جو زبانی کی جاتی ہے۔کتاب کالفظ قرآن کریم میں صرف ایک جگہ خط کے لئے استعمال ہواہے۔ورنہ عام کتابوں کے لئے قرآن کریم میں کتاب کالفظ کہیں استعمال نہیں ہوا۔کتاب کے لفظ کا استعمال ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتابوں کے متعلق ہی کیا جاتا ہے۔پس مِنْ کِتٰبٍ سے مراد مِنَ الْکُتُبِ السَّمَاوِیَّۃِ ہے۔یعنی کتب سماویہ میں سے آپ نے کوئی کتاب نہیں پڑھی اوریہ ذکراس لئے کیاگیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے