تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 428
مقابلہ پیش آجائے تو تم انہیں الزامی جواب بھی دے سکتے ہو۔جیسا کہ موجودہ زمانہ میں جب عیسائی پادریوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نہایت گندے اورناپاک اعتراضات کرنے شروع کردیئے اورانہوں نے اپنی بدزبانی کے تیروں سے کروڑوں مسلمانوں کے دلوںکو مجروح کردیا اور آپؐ کو (نعوذ باللہ) دجال اور کذاب کہناشروع کردیا اور’’امہات المومنین‘‘وغیرہ کتب لکھ کر اپنے اس بغض اورکینہ کوانتہاتک پہنچادیاجوانہیں اسلام اوربانیئے اسلام سے تھاتوحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اناجیل کی روسے انہیں الزامی رنگ میں بتایاکہ تم جس مسیح کوخداقرار دے رہے ہو اس کی اپنی کیاحیثیت تھی اوراس کی پاکیزگی اوراخلاق کے متعلق تمہارے دعوے کہاں تک حق بجانب ہیں۔آپ کے اس جواب پرعیسائی پادریوںکاشور مچاناتو ایک طبعی امر تھا۔مگربدقسمتی سے بعض مسلمانوں نے بھی اس کی حکمت کونہ سمجھتے ہوئے یہ اعتراض کرناشروع کردیا کہ آپ نے (نعوذ باللہ) حضرت مسیح ؑ کی ہتک کی ہے۔حالانکہ آپ کے یہ جوابات قرآن کریم کی اسی آیت کی روشنی میں تھے جس میں اللہ تعالیٰ نے گندہ دہن مخالفین کا استثناء کیا ہے اورفرمایا ہے کہ تم ہمیشہ نرمی اورمحبت کے ساتھ دلائل پیش کرو۔لیکن اگرکبھی کسی ایسے مخالف سے بحث پیش آجائے جوگالیوں اوربدزبانی پر اترآئے اوراسلام اوراس کے بزرگوںپرحملے شروع کردے توتم بھی مناسب رنگ میں اسے الزامی جواب دے کر خاموش کرا سکتے ہو۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے بھی بعض مقامات پراسی طریق سے کام لیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں صاف طور پر ذکرآتاہے کہ مخالف یہ اعتراض کیاکرتے تھے کہ یہ کیسانبی ہے یہ توعام انسانوں کی طرح کھاتاپیتاہے اور قرآن کریم اس کاالزامی رنگ میں یہ جوا ب دیتاہے کہ پہلے نبی بھی کھاتے پیتے تھے اورپہلے نبیوں کے بھی بیوی بچے تھے۔اسی طرح گذشتہ زمانوں میں اسلامی بزرگ بھی اس طر یق سے کام لیتے رہے ہیں۔چنانچہ ایک مشہورتاریخی واقعہ ہے کہ ایک دفعہ روم کے بادشاہ نے ایک مسلمان بادشاہ کو لکھا کہ آپ اپنا کوئی عالم ہمارے پاس بھجوائیں۔ہم مذہب کی تحقیق کرناچاہتے ہیں۔چنانچہ مسلمان بادشاہ نے ایک عالم کو بھجوادیا۔عیسائیوں نے پہلے ہی منصوبہ کیاہواتھا۔انہوں نے خیال کیا کہ مسلمان عالم کو آتے ہی ہم شرمندہ کریں گے۔چنانچہ جب دربار لگ گیا تو ایک پادری اٹھا او رکہنے لگا۔مولوی صاحب! آپ کے رسول ؐ کی بیوی عائشہؓ پرالزام لگایاگیاتھا۔اورالزام لگانے والے بھی آپ کی قو م ہی میں سے تھے۔اس لئے یہ اعتراض کچھ مضبوط معلوم ہوتاہے۔مسلمان عالم جوغالباً امام ابن تیمیہ ؒ یاان کے کوئی دوست تھے۔بڑ ے ہوشیار تھے۔کہنے لگے۔پادری صاحب ! دنیا میں دوعورتیں گذری ہیں۔ایک کاخاوند تھا۔خبیث لوگوں نے اس پر الزام لگایا۔مگرساری عمر اس کے کوئی بچہ نہیں ہوا۔لیکن ایک