تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 424

اس واقعہ کااثر مجھ پر ایسا ہواکہ اب تک مجھے ان کی صور ت یاد ہے۔محمد بخش ان کانام تھا۔میں نے ان سے پوچھا۔آپ واپس آرہے ہیں کیا نماز ہوگئی ہے؟ انہوں نے کہا۔آدمی بہت ہیں مسجد میں جگہ نہیں تھی اس لئے میں واپس آگیاہوں۔میں بھی یہ جواب سن کر واپس آگیا۔اورگھر میں آکر نماز پڑھ لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دیکھ کر مجھ سے پوچھا مسجدمیں نماز پڑھنے کیوں نہیں گئے۔خدا تعالیٰ کافضل ہے کہ میں بچپن سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کاادب ان کے نبی ہونے کی حیثیت سے کرتاتھا۔میں نے دیکھا۔آپ کے پوچھنے میں ایک سختی تھی اورآپ کے چہرہ سے غصہ ظاہرہوتاتھا۔آپ کے اس رنگ میں پوچھنے کا مجھ پر بہت ہی اثر ہوا۔جواب میں میں نے کہا۔میں گیاتوتھا لیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آگیا۔آپ یہ سن کر خاموش ہوگئے۔لیکن جس وقت جمعہ پڑھ کر مولوی عبدالکریم صاحب آپ کی طبیعت کاحال پوچھنے کے لئے آئے توسب سے پہلی بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلا م نے آپ سے دریافت کی وہ یہ تھی کہ کیا آج لوگ مسجد میں زیادہ تھے۔اس وقت میرے دل میں سخت گھبراہٹ پیداہوئی۔کیونکہ میں خود تومسجد میں گیا نہیں تھا۔معلوم نہیں بتانے والے کوغلطی لگی یامیری سمجھ میں غلط مفہوم آیا دونوں صورتو ں میں الزام مجھ پر آئے گا کہ میں نے جھو ٹ بولا۔مولوی عبدالکریم صاحب نے جواب دیا۔ہا ں حضو ر! آج واقعہ میں بہت لوگ تھے۔میں اب بھی نہیں جانتاکہ اصلیت کیاتھی۔خدا نے میری بریت کے لئے یہ سامان کر دیا کہ مولوی صاحب کی زبان سے بھی اس کی تصدیق کرادی یا فی الواقعہ اس دن غیر معمولی طورپر زیادہ لوگ آئے تھے۔بہرحال یہ ایک واقعہ ہواجس کاآج تک میرے قلب پر ایک گہرااثر ہے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کونماز باجماعت کاکتنا خیال رہتاتھا۔بڑاآدمی اگرخود نماز باجماعت نہیں پڑھتاتو وہ منافق ہے۔مگروہ لو گ جو اپنے بچوں کونماز باجماعت اداکرنے کی عادت نہیں ڈالتے وہ ان کے خونی اورقاتل ہیں۔اگرماں باپ بچوں کو نماز باجماعت کی عادت ڈالیں توکبھی ان پر ایساوقت نہیں آسکتاکہ یہ کہاجاسکے کہ ان کی اصلاح ناممکن ہے اوروہ قابل علاج نہیں رہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آجکل مسلمان مساجد میں جاکر نماز یں بھی پڑھتے ہیںاورپھر مسجد سے نکل کرکسی قسم کے گناہ سے بھی ان کو پرہیز نہیں ہوتا۔جھو ٹ وہ بولتے ہیں رشوت وہ لیتے ہیں۔فریب وہ کرتے ہیں۔خیانت سے ان کوپرہیز نہیں۔تجارتی دھوکوں سے وہ مجتنب نہیں۔غرض ہزاروں قسم کے گناہوں میں مبتلاہیں۔مگراس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نماز کو ان شرائط کے ساتھ ادانہیں کرتے جواسلام نے مقرر کی ہیں۔اگروہ ان شرائط کے ساتھ نماز اداکرتے توان کے قلوب پاک ہوجاتے اورگناہوں کی میل دورہوجاتی اورہرقسم کے گناہوں اور بدیوں سے وہ محفوظ ہوجاتے