تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 423
کمائی سے خریدے ہوئے کپڑے سے جسم ڈھک جاتاہے اسی طرح چوری سے حاصل کئے ہوئے کپڑے سے بھی جسم ڈھک جاتاہے۔نتیجے دونوں کے ایک سے ہوں گے۔روٹی کانہ کھاناتوانسان پھر بھی برداشت کرسکتاہے۔مثلاً وہ خیال کرسکتاہے کہ اگر وہ مرجائے گا توکیاہوگااسے اگلے جہان میں تو زندگی مل جائے گی۔یعنی اسے موت کے بعد اگلے جہان کی زندگی مل جاتی ہے۔لیکن روحانی موت کاکوئی قائم مقام نہیں۔جسمانی موت کے متعلق تم کہہ دوگےکہ سارے لوگ مرتے ہیںہمیں موت آجائے گی توکیاہوا۔اگلے جہان میں ہمیں زندگی مل جائے گی۔لیکن اگرتمہیں روحانی موت آجائے توتم کیاکروگے۔روحانی موت کاتوکوئی قائم مقام نہیں۔پس نماز باجماعت کی عادت ڈالواور اپنے بچوں کو بھی اس کاپابند بنائو۔کیونکہ بچوں کے اخلاق اور عادات کی درستی اوراصلاح کے لئے میرے نزدیک سب سے زیادہ ضروری امر نماز باجماعت ہی ہے۔مجھے اپنی زندگی میں اتنے لوگوں سے ملنے اور مختلف حالات کی جانچ پڑتال کاموقع ملا ہے اورساتھ ہی خدا تعالیٰ نے میری طبیعت کو ایساحساس بنایاہے کہ سوسال کی عمر پانے والے بھی اپنی عمر کے تجربوں کے بعد دنیا کی اونچ نیچ اور اچھے برے کو اتنا محسوس نہیں کرسکتے جتنا میں محسوس کرتاہوں۔اورمیں نے اپنے تجربہ میں نماز باجماعت سے بڑھ کر اورکو ئی چیز نیکی کے لئے ایسی مؤثر نہیں دیکھی۔سب سے بڑھ کر نیکی کااثر کرنے والی نماز باجماعت ہی ہے۔اگر میں اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ کی پوری پوری تشریح نہ کرسکوںتومیں اپناقصور سمجھوں گا۔ورنہ میرے نزدیک نماز باجماعت کاپابند خواہ اپنی بدیوں میں ترقی کرتے کرتے ابلیس سے بھی آگے نکل جائے پھر بھی میرے نزدیک اس کی اصلاح کاموقعہ ہاتھ سے نہیںگیا۔ایک شمّہ بھر اورایک رائی کے برابربھی میرے خیال میں نہیں آتاکہ کوئی شخص نماز باجماعت کاپابند ہواورپھر اس کی اصلاح کاکوئی موقعہ نہ رہے۔خواہ وہ کتنا ہی بدیوں میںمبتلا کیوں نہ ہوگیاہو۔نیکی کے متعلق نماز کے مؤثرہونے کا مجھے اتنا کامل یقین ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بھی کہہ سکتاہوں کہ نماز باجماعت کاپابند خواہ کتنا ہی بداعمال کیوں نہ ہوگیا ہو اس کی ضرور اصلاح ہوسکتی ہے اوروہ ضائع نہیں ہوتا۔اورمیں شرح صدر سے کہ سکتاہوں کہ آخری وقت تک اس کے لئے اصلاح کا موقعہ ہے مگر وہ نماز باجماعت کاپابند اس رنگ میں ہو کہ ا س کو اس میں لذت اور سرور حاصل ہو۔مجھے اپناواقعہ یاد ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کچھ بیمار تھے اس لئے جمعہ کے لئے مسجد میں نہ جاسکے۔میں اس وقت بالغ نہیں تھا کہ بلوغت والے احکام مجھ پرجاری ہوں۔تاہم میں جمعہ کے لئے مسجد کوجارہاتھا کہ ایک دوست مجھے ملے اس وقت کی عمر کے لحاظ سے توان کی شکل اس وقت تک یاد نہیں رہ سکتی تھی۔مگر