تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 414

سامنے مجموعی طورپران سب طریقوںسے اپنی عبودیت کااقرار کرتاہوں۔یہ نظارہ نماز اداکرنے والے کو ہی نہیں بلکہ اس کے دیکھنے والے کے دل کو بھی متاثر کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکادیتاہے۔دوسرااصل اسلام نے نماز کی غایت کو حاصل کرنے کا یہ تجویز کیاہے کہ دعاکونمازکامغز قراردیاہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے اَلدُّعَآءُ مُخُّ العِبَادَۃِ (ترمذی ابواب الدعوات باب فضل الدعاء) دعانماز کامغز ہے اور دعااپنے اند رایک ایسا مقناطیسی اثررکھتی ہے کہ ایک طرف تو بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیتی ہے اوردوسری طرف اس کے لئے ایسی آسانیاں بہم پہنچادیتی ہے کہ جن سے و ہ گناہوں سے محفوظ رہ سکے۔جب ہماری استدعائوں اور التجائوںکو والدین اورحکام دنیا بھی قبول کرتے ہیں توکیونکر خیال کیاجاسکتاہے کہ خدا تعالیٰ جوسب مہربانوںسے زیادہ مہربان ہے اپنے بندوں کی دعائوں کو ردّکردے گا۔پس نماز کیا ہے ؟ دعائوں کاایک مجموعہ ہے جس سے ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پید ا ہو تی ہے اور دوسری طرف دعائیں قبولیت کا درجہ حاصل کر کے انسان کی ہدایت اور نیکیوں میں ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔تیسرا ؔ طریق اسلام نے یہ بتا یا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا معا ئنہ کیا جائے۔کیونکہ جب تک کسی چیز کا کامل علم انسان کو نہ ہو اس سے تعلق مکمل نہیں ہوسکتا۔مثلاً جس انسان کو علم کی خوبی معلوم نہیں وہ اس کے حصول کی کوشش نہیں کرسکتا۔اسی طرح جوشخص زہر کے اثر سے نا واقف ہے وہ زہر سے نہیں ڈر سکتا پس اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے اور بدیوں سے بچنے کے لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ کی کامل معرفت ہو۔جس کے لئے اسلام نے نماز میں ایسی عبادتوں کا پڑھنا ضروری رکھا ہے جن سے انسان پر اللہ تعالیٰ کا پر جلال اور قابلِ محبت ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہ بے اختیار اس کے حضور گر جاتا ہے۔اور اس کا دل محبت اور خوف سے بھر جاتا ہے۔کیونکہ جب اس کے سامنے ایک ہی وقت میں اللہ تعالیٰ کے احسانات پیش کئے جاتے ہیں اور نافرمانی اور قطع تعلق کے نتائج سے آگاہی کی جاتی ہے تو اس پر ایک ایسی انقطاعی حالت طاری ہوتی ہے کہ وہ بے اختیار اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجاتا ہے۔اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ادنیٰ درجہ کی نماز یہ ہے کہ تُو یہ سمجھے کہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے اور اعلیٰ درجہ کی نماز یہ ہے کہ تُو یہ سمجھے کہ تُو اپنی آنکھوں سے خدا کو دیکھ رہا ہے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ صرف نماز اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں نماز کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ عملی زندگی میں وہ انسان کو فحشاء اور منکر سے روکے۔گویا اصل مقصود یہ ہوا کہ انسان فحشاء اور منکر سے رُکے۔اور روحانی لحاظ سے نماز کی غرض یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے سامنے آجائے اور وہ یہ سمجھے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔اب یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تُو