تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 413

باتوں کے حصول کے ذرائع پیداکرے وہی عبادت مفیدسمجھی جاسکتی ہے۔ورنہ اس میں مشغول ہونا اپنے وقت کو ضائع کرنے والی بات ہوگی۔قرآن کریم نے اس مضمو ن کو یوں اداکیا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ نماز بدیوں اورگناہوں سے روکتی ہے۔گویانماز صر ف عبودیت کااقرار نہیں۔بلکہ قلب انسانی کو جِلادینے والی شے بھی ہے اوراس کی مدد سے انسان بدیوں اوربدکرداریوں سے بچتاہے اوراس کاوجود بنی نوع انسان کے لئے مفید ہو جاتا ہے۔اب جبکہ یہ معلوم ہوگیا کہ نماز کی اصل غرض اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنااور اس کا شکر ادا کرنا اور نفس کی اصلاح کرناہے توجس طریق عبادت سے یہ دونوں باتیں حاصل ہوتی ہوں وہ ہی عبادت سچی عبادت سمجھی جائے گی اوراسی عبادت کی طرف ہدایت کرنے والا مذہب سچامذہب ہوگا۔اسلام نے اپنے پیروئو ںکے لئے جوطریق عبادت رکھا ہے اس میں ان اغراض کوپوراکرنے کے لئے جوذرائع استعمال کئے ہیں وہ اَورکسی مذہب نے نہیںکئے۔اورہرایک انسان معمولی غورسے کام لے کربھی سمجھ سکتاہے کہ وہی ذرائع اس قابل ہیں کہ عبادت کی غرض کو پوراکرسکیں اوروہ ذرائع یہ ہیں۔اول۔انسانی جسم او رروح کا ایساگہراتعلق ہے کہ ایک کااثر دوسر ے پرپڑتا ہے۔جس طرح غم کی خبر سن کر جسم ایسامتاثر ہوتاہے کہ اس پر اُداسی کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں۔اسی طرح جسم کو جب کوئی صدمہ پہنچتاہے توروح بھی غمگین ہوجاتی ہے۔اوریہی حال خوشی کاہے۔پس قلب کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے کاایک یہ بھی طریق ہے کہ عبادت کے وقت جسم کوبھی کسی ایسی حالت میں رکھاجائے جس سے تذلّل پیداہواور اس کااثر روح پر پڑکر دل میں بھی رقّت اورنرمی پیداہوجائے۔اورانسان خدا تعالیٰ کی طر ف ایک جو ش کے ساتھ متوجہ ہوجائے۔تذلّل کے اظہار کے لئے دنیا میں مختلف صورتوں کواختیار کیاگیاہے کسی ملک کے لوگ جھک جاتے ہیں۔کسی ملک میں ہاتھ باندھ کر کھڑاہونا تذلّل کا نشان قرا ردیاگیاہے۔کسی ملک میں گھٹنوں کے بل گرنے کو کسی میں سجدہ کرنے کو۔اسلام چونکہ خالقِ فطرت کی طرف سے ہے اس نے تمام فطرتوںاور عادتوں کاخیال رکھتے ہوئے نماز میںان سب نشانات کوجمع کردیاہے۔اورمختلف المذاق لوگ جس جس حالت میں بھی تذلل کااظہار کرتے ہیں نمازان کے مذاق کے مطابق ہے۔اوران مختلف اشکالِ تذلّل کے اثرسے انسانی قلب جوش سے بھرجاتاہے اوروہ خدا تعالیٰ کے حضو رجھک جاتاہے۔درحقیقت وہ ایک قابل دید نظارہ ہوتاہے جب ایک مسلمان اپنے رب العالمین خداکے حضور کبھی ہاتھ باندھ سےکھڑاہوتاہے کبھی جھک جاتاہے۔کبھی ہاتھ کھو ل کر کھڑاہو جاتا ہے کبھی سجدہ میں گرجاتاہے کبھی گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتاہے اوراس کادل اس محبت سے پر ہوتاہے جوایک مخلوق کو خالق سے ہوسکتی ہے۔اوروہ زبانِ حال سے اقرار کرتاہے کہ دنیا کی مختلف اقوام جس جس طریق میں بھی اپنی عبودیت کااظہار کرتی ہیں اے خدامیں تیرے