تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 412
غرض اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ کے معاً بعد اَقِمِ الصَّلٰوةَ اور اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ کا ذکرفرماکر اس طرف اشارہ فرمایاکہ بغیر دعائوں کے پاکیزگی حاصل نہیں ہوسکتی۔تلاوت قرآن سے تم دنیا کے خیالات بے شک تبدیل کرسکتے ہو۔لیکن دنیا میں پاکیزگی بغیر فضلِ الٰہی کے نہیں ہوسکتی اوریہ فضل دعائوںسے ہی حاصل ہوگا۔پس نماز یں پڑھو اوردعائیں مانگو۔تاکہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے تمہیں کھڑاکیا ہے اس میں تمہیں کامیابی حاصل ہو۔انجیل میں حضرت مسیح ؑ نے بھی ایک مقام پر فرمایا ہے کہ ’’یہ جنس سوائے دعااور روزہ کے کسی اَورطرح سے نکل نہیں سکتی۔‘‘ (مرقس باب ۹آیت ۲۹) مگرانجیل کی ایک تعلیم کے اچھا ہونے کے یہ معنے نہیں کہ عیسائی مذہب اچھاہے۔کیونکہ ا س میں توصرف ایک بات اچھی ہے اورقرآن میں ساری باتیں اچھی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ عبادت کی غرض اللہ تعالیٰ کے حضوراپنے جذباتِ شکر کااظہار کرناہوتاہے کیونکہ انسان فطرتاً اپنے محسن کاشکریہ اداکرنے پر مجبور ہوتاہے۔جیساکہ احادیث میں آیا ہے کہ جُبِلَتِ الْقَلُوْبُ عَلیٰ حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا۔انسانی دل کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ وہ اپنے محسن سے محبت کرنے پرمجبور ہوتاہے۔پس نماز کی ایک بہت بڑی غرض تویہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے رب کے سامنے اس کے احسانوں کااپنی زبان سے اقرار کرتا رہے۔مگراس کے علاوہ عبادت کی ایک اوربھی غرض ہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے اور وہ گناہوں اوربدیوں سے پاک کرناہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ انسانی عبادتوں کا محتاج نہیں۔بلکہ جس قد راحکام اس نے انسان کو دیئے ہیں ان میں اصل غرض اس کے دل کو پاک کرناہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اوروہ ناپاک سے تعلق نہیں رکھ سکتا۔پس تمام عبادات میں یہ مدنظر رکھا گیا ہے کہ ان سے نفس انسانی بدیوں سے پاک ہواوران کے ذریعہ اسے ایسی طاقت مل جائے کہ وہ مختلف قسم کی ہواوہوس کوچھوڑنے کے قابل ہوجائے۔اورایک طرف اللہ تعالیٰ سے اس کے تعلقات درست ہوجائیں اور دوسری طرف مخلوق الٰہی سے بھی اس کے معاملات بالکل ٹھیک ہوں۔چنانچہ اسلام نے مذہب کی تعریف ہی یہی کی ہے کہ وہ بندے کے خدا تعالیٰ سے تعلقات کو مضبوط کرتاہو اوربندوں کے تعلقات کو قائم کرتاہو۔اوراگر کوئی مذہب ان دونوں باتو ں میںسے کسی ایک کے پوراکرنے سے قاصر ہو تووہ مذہب نہیں کہلا سکتا کیونکہ اس سے مذہب کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔پس جس قدرعبادات مقررکی جاتی ہیں ان کی اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ بندہ کو خدا تعالیٰ کے نزدیک کردیاجائے اور ان میں گناہوں سے بچنے کی طاقت پیدا کی جائے اورجوعبادت ان دونوں