تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 411
میں سمجھتاہوں مسلمانوں کے لئے یہ بھی ایک بہت بڑاامتحان تھا کہ قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہواتاکہ اللہ تعالیٰ یہ دیکھے کہ وہ اسے ہرجگہ پہنچاتے ہیں یانہیں پہنچاتے۔لیکن بدقسمتی سے خود مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ قرآن کریم کاترجمہ کرنا کفر ہے۔گویادوسرے لفظوں میں انہوں نے یہ کہا کہ ہرجگہ قرآن کریم کاپہنچاناکفر ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل ہمیں سمجھ دی کہ قرآن کریم کاترجمہ کرناکفر نہیں بلکہ ضروری ہے۔اوراگر قرآن کریم کاترجمہ نہیںکیاجائے گا تولوگ کس طرح سمجھیں گے کہ خدا تعالیٰ نے ان سے کیا کہا ہے۔دنیا میں اس وقت تیرہ سوزبانیں بولی جاتی ہیں۔اورتیرہ سوزبانوں میں ہی قرآن کریم کاترجمہ ہوناضروری ہے۔کیونکہ قرآن کریم تمام انسانوں کے لئے نازل ہواہے اوردنیاکاکوئی فردایسا نہیں جسے قرآن کریم مخاطب نہیں کرتا۔پس دنیاکاکوئی فردا یسانہیں ہوناچاہیے جس کی زبان میں ہم اس کاترجمہ نہ کردیں۔تاکہ کوئی فرد یہ نہ کہہ سکے کہ اے اللہ ! تونے مجھے فلاں زبان بولنے والے لوگوں میں پیدا کیاتھا اورقرآن کریم تو عربی زبان میں ہے پھر میں قرآن کریم کس سے سیکھتا ؟ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ قرآن کریم کے پڑھنے اورپڑھانے او رسننے او رسنانے اورقرآن کریم کے ذریعہ تما م دنیا کو ہدایت اورراستی کی راہوں کی طرف بلانے کی نصیحت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف قرآن کریم سنانابھی کافی نہیں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ توخود ان کے لئے نمونہ بنے اوران کے لئے دعائیں کرتارہے۔پس تونماز باجماعت کودنیا میں قائم کر اور نماز میں تمام مومنوں اورغیرمومنوں کے لئے دعائیں کیاکرکہ اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے۔اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِنماز یقیناً بری اور ناپسندیدہ باتوں سے لوگوںکوروکتی ہے۔ان بری باتوں سے بھی جو انسان کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں اوران سے بھی جو سوسائٹی پرگراں گذرتی ہیں۔کیونکہ نماز باجماعت مسلمانوں میں پانچ وقت کی مقرر ہے۔اگرنماز باجماعت ان میں قائم ہوجائے گی توان کابہت ساوقت خدا تعالیٰ کی عبادت میں لگ جائے گا۔اورنماز میں خرچ ہونے والا وقت ان کو بے حیائیوں اوربدکاریوں سے بچاتارہے گا۔اسی طرح نماز میں جب دعائیں ہوتی رہیں گی۔اپنے لئے بھی او ردوسروں کے لئے بھی تووہ دعائیں خدا تعالیٰ کافضل کھینچ کر ان کی اپنی اصلاح کا بھی موجب ہو ںگی۔اوردوسروں کی اصلاح او رترقی کاموجب بھی بن جائیں گی۔اسی طرح نماز میں جوقرآن کریم کی آیات پڑھی جاتی ہیں اورتسبیح وتحمید کی کثرت ہوتی ہے اس کادل پر ایسااثر ہوتاہے کہ انسان گناہوںسے نفرت کرنے لگ جاتاہے۔