تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 410

سے ہی تبلیغ کیاکرو۔یہ حکم بھی ایساہے جس کی طرف سے مسلمانوں نے اپنی توجہ کو کلیۃً ہٹارکھا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ یعنی تم میں سے ہمیشہ ایک ایسی امت ہونی چاہیے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلائے او رانہیں نیکی کاحکم دے اوربرائی سے منع کرے۔اورامت کے معنے ایک ایسی جماعت کے ہیں جواپنے اندر نظم رکھتی ہو اور و ہ کسی مرکزی نقطہ کے گرد چکر کھارہی ہو۔پس اس آیت میں مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیاگیاتھا کہ ان میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو مقصدِ تبلیغ کو لے کر کھڑے ہو ں اوران کاعمر بھر یہی کام ہو کہ وہ ایک نظام کے ماتحت رہیں او راسلام پھیلائیں۔اسلام کی گذشتہ تاریخ میں جہاں مسلمانوں سے بعض بڑی بڑی غلطیاںسرزد ہوئی ہیں وہاںایک اہم غلطی ان سے یہ بھی ہوئی کہ تبلیغ کو انفرادی فرض سمجھ لیاگیا۔بیشک مسلمانوں میں مبلّغ رہے بلکہ گذشتہ صدیاں توالگ رہیں قریب کے زمانہ تک بھی مسلمانوں میں مبلّغ رہے۔لیکن اجتماعی رنگ میں تبلیغ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد ہی قریباً مفقود ہوگئی کیونکہ خلفاء ان جنگوں میں جوعیسائیوں اورزردشتیوں کے خلاف لڑی گئیں اس قدرالجھ گئے کہ اس وقت جہاد اورتبلیغ دونوں کوایک سمجھ لیاگیا اورخلفاء کے بعد مسلمانوں پر جمود طاری ہوگیااور اسلام کی اشاعت بند ہوگئی۔وہ دنیوی شان و شوکت او رترقیات کو ہی اپنا منتہائے مقصود سمجھ بیٹھے اورانہوں نے قرآن کریم کو چھو ڑکر دوسرے علوم کواختیار کرلیا اورتبلیغ کے جوش اور اس کے نتائج سے محروم رہ گئے۔اس کانتیجہ یہ نکلا کہ عیسائی غالب آگئے جوتبلیغ میں لگے ہوئے تھے اورمسلمان کمزور ہوگئے جوجہا د کے خیال میں پڑے رہے۔قرآن کریم میںاللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پربھی فرماتا ہے کہ وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًاکَبِیْرًا۔یعنی اے مسلمانو! تم اس قرآن کے ذریعہ دشمنوں سے جہاد کرو کہ یہی جہاد کبیر ہے۔پس بڑاجہاد وہی ہے جو قرآن کریم کے ذریعہ سےکیاجائے اور تبلیغ اسلام پر زو ردیاجائے جیساکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں قرآن کریم کو پیش کرکے اسلام کی فضیلت اوراس کی برتری ثابت کی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہرمسلمان کوتوجہ دلائی ہے کہ تم قرآن کریم ہاتھ میں لواور دنیا میں نکل جائو۔اورخود بھی قرآن پڑھو اوراس پر عمل کرو او ردوسروں کو بھی قرآن سنائواور ان سے عمل کروائو اورپھر جولوگ اسلام کی خوبیوںسے روشناس نہیں ان کوبھی قرآن کریم کے ذریعہ اسلامی انواراوربرکات سے آگاہ کرو او رکوشش کرو کہ دنیا میں ہر جگہ قرآن کی حکومت ہواسلام کی حکومت ہو اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ہو۔