تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 409
میرے پاس ایک دفعہ دیوبند کے دوطالب علم آئے۔انہوں نے کہیں سے یہ سن لیاتھا کہ میں نے کسی مدرسہ میں تعلیم حاصل نہیں کی۔میرے پاس کچھ او ردوست بھی بیٹھے ہوئے تھے۔وہ دونوں طالب علم بھی آکر بیٹھ گئے۔اوران میں سے ایک جو زیادہ تیز معلوم ہوتاتھا اس نے کہا۔آپ کہاں تک پڑھے ہوئے ہیں۔مَیں سمجھ گیا کہ وہ گستاخ ہے۔میں نے کہا میں نے کچھ نہیں پڑھا۔اس نے کہا پھر بھی آپ کس مدرسے میں پڑھے ہیں۔میں نے کہا۔اگر میں پڑھاہوتاتو میں پہلے ہی بتادیتا۔وہ کہنے لگا۔کیا آپ ہندوستان یا پنجاب کے کسی سکول کے فارغ التحصیل نہیں ہیں؟ میں نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ واضح کردیاہے کہ جس چیز کوآپ پڑھائی خیال کرتے ہیں۔وہ میں نے کہیں سے بھی حاصل نہیں کی۔جس وقت میں نے یہ کہا تواس کے دوسرے ساتھی نے جو ذراہوشیار معلوم ہوتاتھا اس کے گھٹنے کو چھو کر چپ کرانے کی کوشش کی۔لیکن چونکہ وہ جوش میں تھا چپ نہ ہوا۔اس نے کہا۔اس کامطلب تو یہ ہے کہ آپ بالکل اَن پڑھ ہیں۔میں نے کہا۔آپ کی گفتگو کی بنیاد اس بات پر تھی کہ میں کس مدرسے میں پڑھاہواہوں اورکس نصاب کو میں نے پاس کیاہے۔سومیں نے کوئی سکول کانصاب پاس نہیں کیا۔میں نے اسی کتا ب سے تعلیم حاصل کی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوملی او رآپؐ نے اپنے متبعین کو دی اوروہ قرآن کریم ہے۔اب آپ فیصلہ کرلیں کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم(نعوذباللہ) ہرقسم کے علوم سے ناواقف تھے یاعالم؟ بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ ساری دنیا کوآپؐ نے عالم بنادیا۔بے شک جو درجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوحاصل ہے وہ بہت بلند ہے۔مگر ہم دونوں ایک ہی کتاب پڑھنے والے ہیں۔چنانچہ میرے اس جواب پر وہ خاموش ہوگیا۔غرض لوگوں کے نزدیک جب تک کسی نے سُلّم شمس بازغہ۔شروح کافیہ۔شروح شافیہ اور ہدایتہ وغیرہ کتب نہ پڑھی ہوں و ہ عالم نہیں کہلاسکتا حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں نہ منطق تھی نہ فلسفہ صرف قرآن ہی قرآن تھا۔لیکن لوگ چاہتے ہیںکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہٹ کر بندوں کی طرف مائل ہوجائیں۔اگرمیں یہ کہتا ہوں کہ میں فلاں کتاب پڑھاہواہوں جومصنفہ خدا تعالیٰ ہے تویہ بات انہیں تسلی نہیں دیتی۔ا نہیں یہ بات تسلی دیتی ہے کہ کسی نے وہ کتاب جو مصنفہ بیضاوی ہے پڑھی ہو۔مصنفہ خدا تعالیٰ ان کے نزدیک کوئی چیز نہیں۔حالانکہ تمام علوم کاسرچشمہ صرف قرآن کریم ہی ہے۔پھر اُتْلُ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن کریم کے پڑھنے اوراس پر عمل کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں دلائی بلکہ اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ تم قرآن کریم کی تعلیم دنیا کے تمام غیر مذاہب کے سامنے پیش کرو اورانہیں بھی اسلام میں شامل کرنے کی کوشش کرو۔گویاتبلیغ میں دوسری چیزوں پر زیادہ زور نہ دو۔بلکہ قرآن کریم کے ذریعہ