تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 408
کے معدہ میں اتناسامان نہیں ہوتا کہ وہ چار ہ کوہضم کرے۔اور چونکہ معدہ اس غذاکو ہضم نہیں کرتا اس لئے وہ پہلے جلدی جلدی چار ہ کھا لیتا ہے اورجب کھُرلی پربیٹھتاہے توو ہ جگالی کرتاہے۔چونکہ ایک جانور چوبیس گھنٹہ تک خوراک جنگل میں نہیں کھاسکتا۔اس لئے وہ جلدی جلدی خوراک کھاتاجاتاہے لیکن جب کھرلی پر آتاہے توپہلے ایک لقمہ نکالتاہے اورجگالی کرتاہے اوراسے خوب چباتاہے پھرایک اورلقمہ نکالتاہے اوراسے چباتاہے۔پھر ایک اور لقمہ نکالتاہے اوراسے چباتاہے۔اسی طرح روحانی جگالی کی کیفیت ہوتی ہے۔جوشخص قرآن کریم پڑھ لیتا ہے یا اس کی تلاوت کرلیتا ہے قرآن کریم اسے ہضم نہیں ہوتا۔اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک جانور گھاس کھالیتا ہے یاانسان کوئی لقمہ منہ میں ڈال لیتا ہے لیکن اگرتم لقمے نگلتے جائو اورانہیں چبائو نہیں توتمہاری انتڑیوں میں سوزش پیدا ہوجائے گی۔دست آنے لگ جائیں گے یا قے آجائے گی اورروٹی باہر نکل آئے گی۔یہی حال روحانی غذاکا ہے۔جولوگ جگالی نہیں کرتے۔وہ اس غذاسے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے یہودیوں کی مثال اس گدھے سے دی ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔جولوگ ذہنی جگالی نہیں کرتے وہ کتاب تو پڑھ لیتے ہیں لیکن اس پر غور وفکر نہیں کرتے اوراس وجہ سے اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔قرآن کریم سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ اسے ان مراتب میں سے گذاراجائے جس سے اس کے مضامین ہضم ہوجائیں۔جب تک اسے ان مراتب میں سے گذارانہیں جائے گا و ہ ہضم نہیں ہوگا۔پس قرآن کریم پڑھنے کے بعد سوچنے کی عادت ڈالو۔اورسوچنے کے بعد اس پر عمل کرو۔اگر تم ایساکرو گے توتم ایک زندہ اورفعال قوم نظر آنے لگ جائو گے اوردنیا تمہیں دیکھ کر حیران رہ جائے گی۔لو ہے کودیکھ لو۔یور پ اس سے انجن بناتا ہے۔لیکن ہمارے ملک میں اس سے محض ہتھوڑے وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔یازیاد ہ سے زیادہ قینچیاں بنالیتے ہیں۔پرانے زمانہ میں عورتیں سیرسیر سوناکانوں میں ڈال لیتی تھیں۔ان کے کان لٹک جاتے تھے ان میں بڑے بڑے سوراخ ہوجاتے تھے اوروہ سمجھتی تھیں ہم بڑی مالدار ہیں۔لیکن اسی سونے سے یورپ کے ممالک نے بعض اشیاء تیار کیں۔اوران کے ذریعے دوسرے ممالک سے کئی گنازیاد ہ مال لے آئے۔پس کسی چیز کاموجود ہوناکافی نہیں۔تم اس بات پر فخر نہ کرو کہ تمہارے پاس قرآن کریم موجود ہے۔اگرتمہارے پاس قرآن کریم موجود ہے توسوال یہ ہے کہ تم نے اس سے کیافائدہ اٹھایا؟ اگرتم قرآن کریم پڑھ کراس سے فائدہ اٹھاتے ہو توتم سے بڑھ کر خوش قسمت اورکوئی نہیں۔اوراگرتم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے توتم سے بڑھ کر بدقسمت بھی اورکوئی نہیں۔کیونکہ تمہاری جیبوں میں سونابھراہے مگرتم اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاسکے۔