تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 397
روندے ہوئے بھس کی طرح ہوگئے۔اسی طرح سورئہ ہود میں فرماتا ہے۔وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاالصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْافِیْ دِیَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ(آیت ۶۸) یعنی جنہوں نے ظلم کاارتکاب کیا تھا انہیں صیحہ نے پکڑ لیا اوروہ اپنے گھروں میں زمین سے چمٹے ہوئے رہ گئے۔یعنی زلزلہ کی وجہ سے ان کے مکانوں کی چھتیں ان کے اوپرآگریں اوروہ اسی حالت میں مرگئے۔پھرفرماتا ہے وَمِنْھُمْ مَّنْ خَسَفْنَابِہِ الْاَرْضَ بعض ایسے تھے کہ ان کو ہم نے ملک میں ذلیل کردیا جیسے قارون کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَخَسَفْنَابِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ( القصص : ۸۲) ہم نے اسے اوراس کے قبیلہ کو مکروحات میں مبتلاکردیا اوروہ ذلیل ہوکر رہ گئے۔وَمِنْھُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا۔اوربعض ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کردیا۔جیسے نوح ؑ کی قوم بھی پانی میں غرق کی گئی اورفرعون بھی سمندر میں غرق ہوا۔وَمَاکَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْٓااَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ میں بتایاکہ ان میں سے کوئی قو م بھی ظلماً ہلاک نہیں ہوئی بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ ان سب قوموں نے اپنی تباہی کے خود سامان پیداکئے تھے خدا تعالیٰ نے ان پرکوئی ظلم نہیں کیاتھا۔مَثَلُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَآءَ كَمَثَلِ ان لوگوں کاحال جنہوں نے اللہ (تعالیٰ)کو چھو ڑ کر او ردوست بنالئے مکڑی کاساحال ہے۔الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَيْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُيُوْتِ جس نے (اپنے لئے ) ایک گھرتوبنایا لیکن گھروں میں سے سب سے کمزورگھر مکڑی لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۰۰۴۲اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ کاہی ہوتاہے۔کاش! کہ یہ لوگ جانتے۔اللہ (تعالیٰ ) ہراس چیز کو جس کو یہ لوگ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ اس کے سواپکارتے ہیں جانتاہے۔اوروہ غالب (اور )حکمت والا ہے۔